کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: غلقِ رہن (ادائیگی نہ ہونے پر گروی شدہ چیز کو ضبط کرنے) کے متعلق جو روایت کیا گیا ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ". فَبِذَلِكَ يُمْنَعُ صَاحِبُ الرَّهْنِ أَنْ يَبْتَاعَ مِنَ الَّذِي رَهَنَهُ عِنْدَهُ حَتَّى يَبْتَاعَ مِنْ غَيْرِهِ هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَصَوَابُهُ فِيمَا أَظُنُّ: وَذَلِكَ يَعْنِي غَلْقَ الرَّهْنِ أَنْ يُمْنَعَ صَاحِبُ الرَّهْنِ أَنْ يَبْتَاعَ مِنَ الَّذِي رَهَنَهُ عِنْدَهُ حَتَّى يَبْتَاعَ مِنْ غَيْرِهِ، فَقَالَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ " يَعْنِي: لَا يُمْنَعُ صَاحِبُ الرَّهْنِ مِنْ مُبَايَعَةِ الْمُرْتَهِنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن کو قبضے میں نہ رکھا جائے“، اس لیے رہن والے کو منع کیا جائے گا کہ وہ خریدے اس شخص سے جسے اس نے رہن میں کوئی چیز دی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی اور سے خریدے، میں نے اسی طرح اپنی کتاب میں پایا ہے اور میرے خیال میں درست یوں ہے: رہن کو بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رہن والے کو اس شخص سے خریدنے سے روک دیا جائے جس کے پاس اس نے رہن رکھا ہے، یہاں تک کہ وہ کسی اور سے خریدے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہن کو قبضے میں نہ رکھا جائے“ یعنی گروی رکھنے والے کو گروی لینے والے سے خرید و فروخت کرنے سے منع نہ کیا جائے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11237
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ ". وَأَنَّ رَجُلًا رَهَنَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ إِلَى أَجَلٍ، فَلَمَّا جَاءَ الْأَجَلُ قَالَ الَّذِي ارْتَهَنَ: هِيَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ " هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن عبداللہ بن جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن قبضے میں نہ رکھی جائے“ اور ایک آدمی نے مدینہ میں ایک مدت تک کے لیے گھر گروی رکھا اور جب ادائیگی کا وقت آیا تو گروی لینے والے نے کہا: اب یہ گھر میرا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رہن کو روکا نہ جائے۔“ یہ مرسل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قَوْلُهُ: " الرَّهْنُ لَا يُغْلَقُ " قَالَ: يَقُولُ: إِنْ لَمْ أَفُكَّ إِلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ.
حافظ ثناء اللہ
معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے «لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ» ”رہن بند نہیں ہوتا“ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر میں فلاں دن تک ادا نہ کر سکوں تو یہ گروی چیز تیری ہو گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11239