السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرهن— رہن کا بیان
باب: ما روي في غلق الرهن باب: غلقِ رہن (ادائیگی نہ ہونے پر گروی شدہ چیز کو ضبط کرنے) کے متعلق جو روایت کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 11239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قَوْلُهُ: " الرَّهْنُ لَا يُغْلَقُ " قَالَ: يَقُولُ: إِنْ لَمْ أَفُكَّ إِلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ.حافظ ثناء اللہ
معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے «لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ» ”رہن بند نہیں ہوتا“ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر میں فلاں دن تک ادا نہ کر سکوں تو یہ گروی چیز تیری ہو گی۔“