کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس حدیث کا ذکر جو شراب سے بنے سرکے کے متعلق وارد ہوئی ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدِّبَاغَ يَحِلُّ مِنَ الْمَيْتَةِ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ " قَالَ فَرَجٌ: يَعْنِي أَنَّ الْخَمْرَ إِذَا تَغَيَّرَتْ فَصَارَتْ خَلًّا حَلَّتْ. تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ يَرْوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَحَادِيثَ عَدَدًا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا. قَالَهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ، وَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَرْتَفِعُ الْخِلَافُ، إِلَّا أَنَّ الْحَدِيثَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردار کے چمڑے کو رنگنا اسے اس طرح حلال کر دیتا ہے جس طرح شراب سرکہ بننے سے حلال ہو جاتی ہے۔“ امام فرج فرماتے ہیں: یعنی جب شراب بدل کر سرکہ بن جائے تو وہ حلال ہو جاتی ہے۔ اس روایت کو یحییٰ سے بیان کرنے میں فرج بن فضالہ منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، وہ یحییٰ بن سعید سے بہت سی ایسی روایات بیان کرتے ہیں جن کی متابعت نہیں کی جاتی۔ یہ بات ابو الحسن دار قطنی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر اختلاف ختم ہو جاتا ہے، مگر یہ حدیث ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّهْقَانُ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُغِيرَةُ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَقْفَرَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ، وَخَيْرُ خَلِّكُمْ خَلُّ خَمْرِكُمْ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ وَاهٍ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ مَنَاكِيرَ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِخَلِّ الْعِنَبِ خَلُّ الْخَمْرِ، وَهُوَ الْمُرَادُ بِالْخَبَرِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ إِنْ شَاءَ اللهُ، أَوْ خَمْرًا تَخَلَّلَتْ بِنَفْسِهَا، وَكَذَلِكَ مَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس گھر کے سالن میں سرکہ شامل ہو وہ گھر کبھی فقیر نہیں ہو سکتا اور بہترین سرکہ وہ ہے جو شراب سے بنایا جائے۔“
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ حدیث واہی (سخت ضعیف) ہے اور مغیرہ بن زیاد منکر روایات بیان کرنے والا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اہل حجاز انگوروں کے سرکہ کو شراب کا سرکہ کہتے ہیں اور یہی اس روایت میں مراد ہے، اگر یہ سنداً ثابت ہو جائے، ان شاء اللہ، یا اس سے مراد وہ شراب ہے جو بذاتِ خود سرکہ بن گئی ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11203
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أُمِّ خِدَاشٍ، أَنَّهَا رَأَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَصْطَبِغُ بِخَلِّ خَمْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان تیمی ام خداش سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ شراب کے سرکے کا سالن استعمال کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11204