کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ⦗٦٢⦘ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلًّا، قَالَ: " لَا " لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَفِي رِوَايَةِ قَبِيصَةَ قَالَ: عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ وَأَبُو هُبَيْرَةَ هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُجْعَلُ خَلًّا، فَكَرِهَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کیا شراب کو سرکہ بنا سکتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کیا شراب کو سرکہ بنا سکتے ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حِجْرِهِ يَتِيمٌ، وَكَانَ عِنْدَهُ خَمْرٌ حِينَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصْنَعُهَا خَلًّا؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَصَبَّهُ حَتَّى سَالَ بِهِ الْوَادِي وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، وَذَكَرَ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَهُ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا، قَالَ: " أَهْرِقْهَا " قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس کی گود میں یتیم بچے تھے اور اس کے پاس شراب تھی جبکہ اس وقت شراب حرام کر دی گئی تھی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں شراب کو سرکہ بنا لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو اس نے اسے انڈیل دیا حتیٰ کہ وادی بہہ پڑی۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے سفیان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یتیموں کو ملی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَهْرِقْهَا» ”اسے بہا دو۔“ انہوں نے کہا: ”کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي يَتَامَى، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَجْعَلُهُ خَلًّا؟ قَالَ: " لَا " فَأَهْرَاقَهُ قَوْلُهُ: فِي حِجْرِ أَبِي، يُرِيدُ حِجْرَ أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ زَوْجَ أُمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میرے باپ کی پرورش میں یتیم تھے، میرے باپ نے شراب خریدی، جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا اور عرض کیا: کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو انہوں نے اسے انڈیل دیا (باپ سے مراد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ ان کی ماں کے خاوند تھے)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو جَنَابٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالُ أَيْتَامٍ، قَالَ: فَكَانَ يَشْتَرِي لَهُمُ الرَّجْعَ وَالْأَنْضَاءَ يُصْلِحُهَا وَيَبِيعُهَا، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا فَجَعَلَهُ فِي الْخَوَابِي، وَإنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْزَلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " أَهْرِقْهُ "، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: " أَهْرِقْهُ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ غَيْرُهُ، قَالَ: " أَهْرِقْهُ " فَأَهْرَاقَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی کے پاس یتیموں کا مال تھا، تو وہ ان کے لیے پرانی اور خراب چیزیں خریدتا اور ان کو درست کر کے بیچ دیتا تھا۔ ایک دن اس نے شراب خریدی اور مٹکوں میں ڈال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمائی۔ وہ نبی اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”شراب بہا دو۔“ پھر انہوں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا صرف یہی مال ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انڈیل دو۔“ چنانچہ اس نے اسے انڈیل دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِالطَّلَا ⦗٦٣⦘ وَهُوَ بِالْجَابِيَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُطْبَخُ وَهُوَ كَعَقِيدِ الرُّبِّ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي هَذَا لَشَرَابًا مَا انْتَهَى إِلَيْهِ فَلَا يُشْرَبُ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّى يُبْدِيَ اللهُ فَسَادَهَا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَطِيبُ الْخَلُّ، وَلَا بَأْسَ عَلَى امْرِئٍ أَنْ يَبْتَاعَ خَلًّا وَجَدَهُ مَعَ أَهْلِ الْكِتَابِ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَهَا بَعْدَمَا عَادَتْ خَمْرًا " قَوْلُهُ: أُفْسِدَتْ يَعْنِي: عُولِجَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جابیہ نامی جگہ پر طلاء لایا گیا، ان دنوں اسے پکایا جاتا تھا اور وہ گاڑھے شیرے کی طرح ہوتا تھا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اس حد تک جہاں یہ پہنچ چکا ہے، ایک (جائز) مشروب ہے۔ شراب کا وہ سرکہ نہ پیا جائے جسے (جان بوجھ کر) بگاڑا گیا ہو، یہاں تک کہ اللہ خود اس کا بگاڑ ظاہر کر دے، تب وہ سرکہ پاکیزہ ہو جاتا ہے، اور آدمی پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اہل کتاب کے پاس پایا جانے والا سرکہ خرید لے، جب تک اسے یہ علم نہ ہو کہ انہوں نے شراب بن جانے کے بعد اسے جان بوجھ کر بگاڑا ہے۔
«أُفْسِدَتْ» (بگاڑا گیا) سے مراد ہے: اس کا علاج کیا گیا (یعنی اسے سرکہ بنانے کی تدبیر کی گئی)۔
«أُفْسِدَتْ» (بگاڑا گیا) سے مراد ہے: اس کا علاج کیا گیا (یعنی اسے سرکہ بنانے کی تدبیر کی گئی)۔