کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: گروی رکھا ہوا رس جب شراب بن جائے تو وہ رہن سے خارج ہو جائے گا اور کسی انسانی عمل کے ذریعے شراب کو سرکہ بنانا حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 11197
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ⦗٦٢⦘ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلًّا، قَالَ: " لَا " لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَفِي رِوَايَةِ قَبِيصَةَ قَالَ: عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ وَأَبُو هُبَيْرَةَ هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُجْعَلُ خَلًّا، فَكَرِهَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کیا شراب کو سرکہ بنا سکتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کیا شراب کو سرکہ بنا سکتے ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11197
درجۂ حدیث محدثین: صحيح مسلم 1983
تخریج حدیث «صحيح مسلم 1983»
حدیث نمبر: 11198
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حِجْرِهِ يَتِيمٌ، وَكَانَ عِنْدَهُ خَمْرٌ حِينَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصْنَعُهَا خَلًّا؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَصَبَّهُ حَتَّى سَالَ بِهِ الْوَادِي وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، وَذَكَرَ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَهُ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا، قَالَ: " أَهْرِقْهَا " قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس کی گود میں یتیم بچے تھے اور اس کے پاس شراب تھی جبکہ اس وقت شراب حرام کر دی گئی تھی، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں شراب کو سرکہ بنا لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو اس نے اسے انڈیل دیا حتیٰ کہ وادی بہہ پڑی۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے سفیان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یتیموں کو ملی ہوئی شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَهْرِقْهَا» ”اسے بہا دو۔“ انہوں نے کہا: ”کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11198
حدیث نمبر: 11199
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي يَتَامَى، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَجْعَلُهُ خَلًّا؟ قَالَ: " لَا " فَأَهْرَاقَهُ قَوْلُهُ: فِي حِجْرِ أَبِي، يُرِيدُ حِجْرَ أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ زَوْجَ أُمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میرے باپ کی پرورش میں یتیم تھے، میرے باپ نے شراب خریدی، جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور اس بات کا تذکرہ کیا اور عرض کیا: کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو انہوں نے اسے انڈیل دیا (باپ سے مراد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ ان کی ماں کے خاوند تھے)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11199
حدیث نمبر: 11200
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو جَنَابٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالُ أَيْتَامٍ، قَالَ: فَكَانَ يَشْتَرِي لَهُمُ الرَّجْعَ وَالْأَنْضَاءَ يُصْلِحُهَا وَيَبِيعُهَا، قَالَ: فَاشْتَرَى خَمْرًا فَجَعَلَهُ فِي الْخَوَابِي، وَإنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْزَلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " أَهْرِقْهُ "، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: " أَهْرِقْهُ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ غَيْرُهُ، قَالَ: " أَهْرِقْهُ " فَأَهْرَاقَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی کے پاس یتیموں کا مال تھا، تو وہ ان کے لیے پرانی اور خراب چیزیں خریدتا اور ان کو درست کر کے بیچ دیتا تھا۔ ایک دن اس نے شراب خریدی اور مٹکوں میں ڈال لی، پھر اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمائی۔ وہ نبی اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”شراب بہا دو۔“ پھر انہوں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے پھر وہی جواب دیا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! ان کا صرف یہی مال ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انڈیل دو۔“ چنانچہ اس نے اسے انڈیل دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11200
حدیث نمبر: 11201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِالطَّلَا ⦗٦٣⦘ وَهُوَ بِالْجَابِيَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُطْبَخُ وَهُوَ كَعَقِيدِ الرُّبِّ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي هَذَا لَشَرَابًا مَا انْتَهَى إِلَيْهِ فَلَا يُشْرَبُ خَلُّ خَمْرٍ أُفْسِدَتْ حَتَّى يُبْدِيَ اللهُ فَسَادَهَا، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَطِيبُ الْخَلُّ، وَلَا بَأْسَ عَلَى امْرِئٍ أَنْ يَبْتَاعَ خَلًّا وَجَدَهُ مَعَ أَهْلِ الْكِتَابِ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ تَعَمَّدُوا إِفْسَادَهَا بَعْدَمَا عَادَتْ خَمْرًا " قَوْلُهُ: أُفْسِدَتْ يَعْنِي: عُولِجَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جابیہ نامی جگہ پر ایک طلاء لایا گیا اور وہ اس دن کچھ پکایا گیا تھا، گویا کہ وہ کچھ کھجور وغیرہ کا گاڑھا شیرہ ہے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں شراب ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔ شراب کا سرکہ نہ پیا جائے جو خراب ہو چکا ہو، یہاں تک کہ اللہ اس کا فساد واضح کر دے، پھر یہ پاک ہو جائے گی اور اس کی خرید و فروخت کرنے میں آدمی پر کوئی حرج نہیں۔ انھوں نے اہل کتاب کے پاس اس (سرکہ) کو پایا، جس کا انھیں علم نہ ہوا کہ انھوں نے جان بوجھ کر اس سے سرکہ بنایا جبکہ وہ شراب بن چکی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرهن / حدیث: 11201
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري اليٰ قوله ليطيب الخل»