کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس شخص نے کسی چیز میں سلف (بیع سلم) کی تو وہ اسے کسی دوسری چیز کی طرف نہ پھیرے اور اسے قبضے میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 11153
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَسْلَفْتَ فِي شَيْءٍ فَلَا تَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ ". وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ: " مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ " ⦗٥١⦘ وَالِاعْتِمَادُ عَلَى حَدِيثِ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ؛ فَإِنَّ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو کسی چیز میں بیع سلف کرے تو اسے غیر کی طرف منتقل نہ کر۔“ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جو شخص کسی شے میں بیع سلف کرے وہ اسے غیر کی طرف منتقل نہ کرے۔“
اور اعتبار اس حدیث پر ہے جس میں گندم کو اپنے قبضے میں لینے سے پہلے بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11153
حدیث نمبر: 11154
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خُلَيْدَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَفِ قُلْتُ: إِنَّا نُسْلِفُ فَنَقُولُ: إِنْ أَعْطَيْتَنَا بُرًّا فَبِكَذَا، وَإِنْ أَعْطَيْتَنَا تَمْرًا فَبِكَذَا، قَالَ: " أَسْلِمْ فِي كُلِّ صِنْفٍ وَرِقًا مَعْلُومَةً، فَإِنْ أَعْطَاكَهُ وَإِلَّا فَخُذْ رَأْسَ مَالِكَ، وَلَا تَرُدَّهُ فِي سِلْعَةٍ أُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن خلیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع سلف کے بارے میں پوچھا، میں نے ان سے کہا: ہم بیع سلف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اگر ہمیں گندم دی گئی تو فلاں نرخ پر لیں گے اور تر کھجور دی گئی تو فلاں نرخ پر لیں گے۔ انہوں نے جواب دیا: ہر موسمِ گرما میں معلوم چاندی کے ساتھ بیع سلم کر، اگر وہ تجھے دے اور اگر نہ دے تو اپنا راس المال واپس لے لو اور اسے کسی دوسرے سامان کے عوض مت بیچ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11154
درجۂ حدیث محدثین: مسند ابن ابي شيبه 21400
تخریج حدیث «مسند ابن ابي شيبه 21400»
حدیث نمبر: 11155
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ مَرْوَانُ قَدْ أَحَلَّ بَيْعَ الصُّكُوكِ الَّتِي بِالْآجَالِ قَبْلَ أَنْ تُسْتَوْفَى، فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَحْلَلْتَ الرِّبَا بَيْعَ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ، وَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ "، فَرَدَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ذَلِكَ الْبَيْعَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، مروان نے بیعِ صکوک (سرکاری رقعے)، جس کی مدت مقرر ہوتی ہے، مکمل طور پر قبضے میں لینے سے پہلے حلال قرار دی تھی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا: تو نے سود کو حلال قرار دیا ہے، چنانچہ گندم بیچی جاتی ہے حالانکہ اسے ابھی قبضے میں نہیں لیا گیا ہوتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص گندم خریدے وہ اسے پورا ماپنے سے پہلے نہ بیچے۔“ چنانچہ مروان نے اس بیع سے روک دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11155
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 1528
تخریج حدیث «مسلم 1528»
حدیث نمبر: 11156
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ: " أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّكَاكِ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ " قَالَ: فَخَطَبَ مَرْوَانُ وَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: فَرَأَيْتُ الْحَرَسَ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: تو نے «بَيْعُ الصِّكُوكِ» ”بیعِ صکوک“ کو حلال قرار دیا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ”گندم ماپ لینے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے“۔ کہتے ہیں کہ پھر مروان نے خطبہ دیا اور اس بیع سے روک دیا، سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سپاہیوں کو دیکھا وہ لوگوں کے ہاتھوں سے اسے چھین رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11156