کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات میں کوئی بھلائی نہیں کہ وہ اس شرط پر جلدی ادائیگی کرے کہ حقدار اس کا کچھ حق معاف کر دے گا۔
حدیث نمبر: 11138
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ: بِعْتُ بُرًّا مِنْ أَهْلِ السُّوقِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ وَيَنْقُدُونِي، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلَا تُؤْكِلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے بازار میں روٹی بیچی اور اس کی ادائیگی کا وقت مقرر کیا۔ پھر میں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مجھ سے شرط لگائی کہ میں کچھ قرض معاف کر دوں تو وہ وقت سے پہلے ادائیگی کردیں گے۔ میں نے یہ بات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”میں تجھے اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ تو ایسا مال کھائے یا دوسروں کو کھلائے۔“
حدیث نمبر: 11139
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ ⦗٤٧⦘ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ، فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُهُ وَيُعَجِّلُ لَهُ الْآخَرُ، قَالَ: " فَكَرِهَ ابْنُ عُمَرَ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی سے مدتِ مقررہ تک قرض لینا ہو اور قرض لینے والا کچھ قرض معاف کر کے وقت سے پہلے لے لیتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا اور اس سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر: 11140
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: لِرَجُلٍ عَلَيَّ دَيْنٌ، فَقَالَ لِي: عَجِّلْ لِي وَأَضَعُ عَنْكَ فَنَهَانِي عَنْهُ وَقَالَ: نَهَى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنْ نَبِيعَ الْعَيْنَ بِالدَّيْنِ " وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو منہال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مجھ سے اپنے ایک قرضہ لینے والے نے کہا: تم مجھے قرضہ وقت سے پہلے دے دو، میں تجھے کچھ قرضہ معاف کر دوں گا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے روکا اور فرمایا: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا ہے کہ ہم قرضہ کے بدلے میں نقد چیز بیچیں۔
حدیث نمبر: 11141
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا غَانِمُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ السَّعْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: أَسْلَفْتُ رَجُلًا مِائَةَ دِينَارٍ، ثُمَّ خَرَجَ سَهْمِي فِي بَعَثٍ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: عَجِّلْ لِي تِسْعِينَ دِينَارًا وَأَحُطُّ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَكَلْتَ رِبًا يَا مِقْدَادُ، وَأَطْعَمْتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سو دینار ادھار لیے، پھر ایک لشکر کے مال غنیمت میں سے میرا حصہ نکلا تو میں نے کہا: میں تمہیں نوے دینار واپس کر دیتا ہوں تو مجھے دس دینار معاف کر دے تو اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ یہ بات اللہ کے رسول ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے فرمایا: ”تو نے خود بھی سود کھایا ہے اور اسے بھی کھلایا ہے۔“