کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص کو اس کی مقررہ مدت سے پہلے اس کے حق سے کچھ کم دے کر جلدی ادائیگی کی گئی تو اس نے اسے قبول کر لیا اور ان دونوں نے باہمی خوش دلی سے بقیہ حق معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 11134
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ⦗٤٦⦘ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا، أَوْ لِيَضَعْ لَهُ " وَقَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنَجِّيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا، أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو یسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ نصیب کرے جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا، تو تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ والی حدیث گزر چکی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی سختی دور کرے تو وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرضہ معاف کرے۔“
حدیث نمبر: 11135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَقُولَ: " أُعَجِّلُ لَكَ وَتَضَعُ عَنِّي " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ مقروض کہے: میں تجھے وقت سے پہلے ادائیگی کر دیتا ہوں، لیکن تو مجھے کچھ قرض معاف کر۔
حدیث نمبر: 11136
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ،.
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن مدنی رحمہ اللہ سے روایت ہے۔
حدیث نمبر: 11137
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزْرَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَ بإخْرَاجِهِمْ وَلَهُمْ عَلَى النَّاسِ دُيُونٌ لَمْ تَحِلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا "، أَوْ قَالَ: " وَتَعَاجَلُوا " وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي سِيَرِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے بنو نضیر کو مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا تو ان کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے انھیں نکالنے کا حکم دیا ہے اور انھوں نے لوگوں سے قرض لینا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”معاف کرواؤ اور جلدی ادا کرو“ یا فرمایا: ”اپنے لین دین جلدی نمٹا لو۔“