کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مجبور اور زبردستی کیے گئے شخص کی بیع (خرید و فروخت) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ هِبَةُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ الطَّبَرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَلْقَيَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُعْطِيَ أَحَدًا مِنْ مَالِ أَحَدٍ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسِهِ، إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے پہلے کہ میں کسی کو کسی کا مال اس کی خوشی کے بغیر دے دوں، میں مر جانا چاہتا ہوں، بیع تو رضامندی کا نام ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، ثنا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَوْ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ، يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ، قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَنْسَوَا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ} [البقرة: ٢٣٧]، وَتَنْهَدُ الْأَشْرَارُ، وَيُسْتَذَلُّ الْأَخْيَارُ، وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُطْعَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
صالح بن رستم کہتے ہیں کہ ہمیں بنو تمیم کے ایک شیخ نے بتایا کہ ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا: ”لوگوں پر کاٹ کھانے والا زمانہ آئے گا، خوشحال آدمی اپنے ہاتھ کے مال کو دانتوں سے پکڑے رکھے گا، حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 237]“
”اس زمانے میں برے لوگ با عزت بن بیٹھیں گے اور بھلے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، مجبور لوگ بیع کریں گے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مجبور کی بیع، دھوکے کی بیع اور کچے پھل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔“
”اس زمانے میں برے لوگ با عزت بن بیٹھیں گے اور بھلے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، مجبور لوگ بیع کریں گے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مجبور کی بیع، دھوکے کی بیع اور کچے پھل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ، ثنا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ فَقَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، تُقَدَّمُ الْأَشْرَارُ لَيْسَتْ بِالْأَخْيَارِ، وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّ، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ " أَبُو عَامِرٍ هَذَا هُوَ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ، وَكُلُّهَا غَيْرُ قَوِيَّةٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عامر مزنی کہتے ہیں کہ ہمیں بنو تمیم کے ایک شیخ نے بتایا کہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ برے لوگوں کو مقدم سمجھا جائے گا، مجبور آدمی سے بیع کی جائے گی،“ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ”مجبور کی بیع، دھوکے کی بیع اور کچے پھل کی بیع“ سے منع کیا ہے۔
یہ روایت سیدنا علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کئی طرق سے مروی ہے، اور وہ سب قوی نہیں ہیں۔
یہ روایت سیدنا علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کئی طرق سے مروی ہے، اور وہ سب قوی نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوُيْهِ، ⦗٣٠⦘ ثنا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرْكَبَنَّ رَجُلٌ بَحْرًا، إِلَّا غَازِيًا، أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ حَاجًّا؛ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا، وَتَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَلَا يُشْتَرَى مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ فِي ضُغْطَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سمندری سفر صرف غازی، عمرہ کرنے والا اور حج کرنے والا کرے، ان کے علاوہ کوئی اور سمندری سفر نہ کرے؛ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے پانی ہے اور اس پانی کے نیچے آگ ہے اور کسی مجبور مسلمان کا مال نہ خریدا جائے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الشَّعْرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجٌّ، أَوْ مُعْتَمِرٌ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ؛ فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا "، وَقَالَ: " لَا يَشْتَرِي مِنْ ذِي ضُغْطَةٍ سُلْطَانٌ شَيْئًا " لَفْظُ حَدِيثِ الشَّعْرَانِيِّ. وَقَدْ قِيلَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ بِشْرٍ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والے کے علاوہ کوئی اور سمندری سفر نہ کرے؛ کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے۔“ اور فرمایا: ”حاکم کسی مجبور اور تنگ دست سے کوئی چیز نہ خریدے۔“
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ جَعْدٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " لَا يَجُوزُ عَلَى مُضْطَهَدٍ نِكَاحٌ وَلَا بَيْعٌ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجبور آدمی پر نکاح اور بیع جائز نہیں ہے۔