کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غلام کے ساتھ لین دین (قرض کا معاملہ) کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلًا فَبَاعَهُ بَعْدَ تَوْبِيرِهِ فَلَهُ ثَمَرَتُهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ الْعَبْدَ الْمَأْذُونَ لَهُ فِي التِّجَارَةِ إِذَا كَانَ فِي يَدِهِ مَالٌ وَفِيهِ دَيْنٌ يَتَعَلَّقُ بِهِ، فَالسَّيِّدُ يَأْخُذُ مَالَهُ وَيَقْضِي مِنْهُ دَيْنَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنا غلام بیچے اور اس کا مال ہو تو یہ اسی کا ہوگا اور اس کا قرضہ بھی اسی کے ذمہ ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط لگائے اور جو شخص کھجوروں کی پیوندکاری کرے اور اس کے بعد بیچے تو اس کا پھل بھی اسی کا ہوگا مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط لگائے۔“ یہ حدیث اگر صحیح ہو تو غلام سے مراد وہ غلام ہے جس کے بارے میں تجارت کی اجازت ہو، اس کا آقا اس کا مال بھی لے گا اور قرض بھی ادا کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ التَّابِعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ " دَيْنُ الْمَمْلُوكِ فِي ذِمَّتِهِ، وَمَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ سِوَى الدَّيْنِ، مِثْلُ الشَّيْءِ يَخْتَلِسُهُ، أَوِ الْمَالِ يَغْتَصِبُهُ، أَوِ الْبَعِيرُ يَنْحَرُهُ، فَذَلِكَ كُلُّهُ بِمَنْزِلَةِ الْجُرْحِ يَجْرَحُهُ، إِمَّا أَنْ يَفْدِيَهُ سَيِّدُهُ، وَإِمَّا أَنْ يُسَلِّمَ عَبْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے فقہائے تابعین فرمایا کرتے تھے کہ غلام کا قرض آقا کے ذمہ ہے اور جو وہ لوگوں کے مال میں سے لے سوائے قرض کے، مثلاً وہ کسی سے کوئی چیز چھین لے یا مال غصب کر لے یا کسی کا اونٹ ذبح کر دے تو یہ زخم کے مانند ہے جو اسے لگتا ہے، یا تو آقا اس کا ہرجانہ دے گا یا پھر اپنا غلام سپرد کر دے گا۔