السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في مداينة العبد باب: غلام کے ساتھ لین دین (قرض کا معاملہ) کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11004
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلًا فَبَاعَهُ بَعْدَ تَوْبِيرِهِ فَلَهُ ثَمَرَتُهُ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ الْعَبْدَ الْمَأْذُونَ لَهُ فِي التِّجَارَةِ إِذَا كَانَ فِي يَدِهِ مَالٌ وَفِيهِ دَيْنٌ يَتَعَلَّقُ بِهِ، فَالسَّيِّدُ يَأْخُذُ مَالَهُ وَيَقْضِي مِنْهُ دَيْنَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنا غلام بیچے اور اس کا مال ہو تو یہ اسی کا ہوگا اور اس کا قرضہ بھی اسی کے ذمہ ہوگا، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط لگائے اور جو شخص کھجوروں کی پیوندکاری کرے اور اس کے بعد بیچے تو اس کا پھل بھی اسی کا ہوگا مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط لگائے۔“ یہ حدیث اگر صحیح ہو تو غلام سے مراد وہ غلام ہے جس کے بارے میں تجارت کی اجازت ہو، اس کا آقا اس کا مال بھی لے گا اور قرض بھی ادا کرے گا۔