کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”جب وہ خوشحال ہو جائے تو اسے ادا کر دے“۔
حدیث نمبر: 11001
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي أَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللهِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذْتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”میں اللہ کے مال کو ایسے سمجھتا ہوں جیسے یتیم کا سرپرست یتیم کے مال کو سمجھتا ہے، اگر ضرورت پڑتی ہے تو میں لے لیتا ہوں اور خوشحالی کے وقت لوٹا دیتا ہوں اور اگر ضرورت نہ پڑے تو میں نہیں لیتا۔“ یہ روایت ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11001
درجۂ حدیث محدثین: اخرجه سعيد بن منصور رقم 788، تفسير ابن كثير 2
تخریج حدیث «اخرجه سعيد بن منصور رقم 788، تفسير ابن كثير 2۔218»
حدیث نمبر: 11002
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦]، قَالَ: " يَأْكُلُ وَالِي الْيَتِيمِ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ قُوتَهُ، وَيَلْبَسُ مِنْهُ مَا يَسْتُرُهُ، وَيَشْرَبُ فَضْلَ اللَّبَنِ، وَيَرْكَبُ فَضْلَ الظَّهْرِ، فَإِنْ أَيْسَرَ قَضَى، وَإِنْ أَعْسَرَ كَانَ فِي حِلٍّ ". وَرُوِّينَا عَنْ عُبَيْدَةَ، وَمُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الْعَالِيَةِ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَقْضِيهِ. وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: لَا يَقْضِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] کے بارے میں فرماتے ہیں: سرپرست بھوک مٹا سکتا ہے اور ستر ڈھانپنے کے لیے اس کے مال سے کپڑا بھی لے سکتا ہے، اضافی دودھ پی سکتا ہے اور زائد سواری پر سوار بھی ہو سکتا ہے، بعد میں اگر خوشحالی ہو جائے تو لوٹا دے ورنہ حلال ہے۔
عبیدہ، مجاہد اور سعید بن جبیر وغیرہ فرماتے ہیں کہ قضا کرے گا اور حسن بصری اور عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ قضا نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11002
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»