کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جب مال یتیموں کا ہو تو مہلت دینے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ؛ لِيُقَاتِلَهُمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَتْلِ أَبِيهِ وَاشْتِدَادِ الْغُرَمَاءِ عَلَيْهِ فِي التَّقَاضِي، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُ لِي فُلَانًا " الْغَرِيمَ الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي التَّقَاضِي، فَقَالَ: " أَيْسِرْ جَابِرًا بَعْضَ دَيْنِكِ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ " قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ وَاعْتَلَّ، قَالَ: إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيْنَ جَابِرٌ؟ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَضَاءِ الدَّيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مشرکین کے خلاف جہاد کے لیے نکلے، اس نے حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ ان کے والد شہید ہوئے اور قرضہ لینے والوں کی ان پر سختی ہوئی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فلاں کو بلاؤ۔“ یعنی وہ قرضہ لینے والا جس نے میرے اوپر سختی کی تھی، قرضہ کے تقاضا میں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جابر کے والد پر جو قرض تھا آئندہ پھل کی کٹائی تک مؤخر کر دو۔“ اس نے کہا: ”میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔“ وہ اس بات پر اڑ گیا، کیونکہ یہ یتیموں کا مال ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”جابر کہاں ہیں؟“ حدیث میں قرض کی ادائیگی کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10977
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه احمد 3/ 397»