کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: تنگ دست کو مہلت دینے اور مالدار سے درگزر کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: تَذَكَّرْ، قَالَ: كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: فَقَالَ اللهُ تَعَالَى تَجَوَّزُوا عَنْهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے لوگوں کی کسی روح کو فرشتے ملے اور اس سے کہنے لگے: کیا تو نے کوئی نیک عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو یاد کر۔ اس نے کہا: میں لوگوں کو قرض دیتا تھا۔ میں اپنے غلام کو حکم دیتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دینا اور معاف کر دینا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم اس سے درگزر کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10970
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1971»
حدیث نمبر: 10971
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ؟ قَالَ: كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَأَتَجَاوَزُ فِي الْمَسْأَلَةِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ " قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”ایک آدمی فوت ہوگیا، اس سے پوچھا گیا: تو نے کیا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: میں لوگوں سے خریدوفروخت کرتا تھا، میں ان کو ڈھیل دیتا اور درگزر کرتا تھا۔“ وہ جنت میں داخل ہوگیا اور مسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (بھی) نبی ﷺ سے سنا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10971
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2261»
حدیث نمبر: 10972
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا يُخَالِطُ النَّاسَ فَيَقُولُ لِغِلْمَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ اللهُ لِمَلَائِكَتِهِ: فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک آدمی کا حساب و کتاب کیا گیا، اس کی کوئی نیکی نہ تھی الا یہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا تھا، وہ اپنے غلاموں سے کہتا کہ تم تنگ دست سے درگزر کیا کرو، تو اللہ رب العزت نے اپنے فرشتوں سے فرمایا: ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں، تم بھی اس سے درگزر کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10972
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 1561»
حدیث نمبر: 10973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ ⦗٥٨٤⦘ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ ٨ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ الله بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يقول: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا أَعْسَرَ الْمُعْسِرُ قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ فَلَعَلَّ اللهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”ایک آدمی لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب کسی پر تنگ دستی ہو جاتی تو اپنے غلاموں سے کہتا: ”تم اس سے درگزر کرو، شاید اللہ رب العزت ہم سے درگزر فرمائیں،“ اس نے اللہ سے ملاقات کی تو اللہ نے اس سے درگزر فرما لیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10973
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1972»
حدیث نمبر: 10974
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْآجُرِّيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ، ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ، فَقَالَ لَهُ: قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنَجِّيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ایک مقروض کو تلاش کرتے تھے، وہ ان سے چھپتا پھرتا تھا، پھر انہوں نے اس کو پا لیا، اس نے کہا: میں تنگ دست ہوں، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «آللّٰهِ؟» ”اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: «آللّٰهِ» ”اللہ کی قسم“، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جس کو پسند ہو کہ اللہ قیامت کی ہول ناکیوں سے اس کو بچائے، وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کو معاف ہی کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10974
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1563»
حدیث نمبر: 10975
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْنَا أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعَلِّمَ فِي هَذَا الْحِيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا فَكَانَ أَوَّلَ مَا لَقِينَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ وَمَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا عَمُّ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفَعةً مِنْ غَضِبٍ، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَمِيِّ مَالٌ فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَسَلَّمْتُ فَقُلْتُ: ثَمَّ هُوَ؟ قَالُوا: لَا فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ صَغِيرٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلِيَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنَا وَاللهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَكْذِبُكَ خَشِيتُ وَاللهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ وَأَنْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ وَاللهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: فَأَتَى بِصَحِيفَتِهِ ثُمَّ مَحَاهَا بِيَدِهِ وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِنِي وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ فَأَشْهَدُ بَصُرَ عَيْنِي هَاتَيْنِ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَ أُذُنِي هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ " ⦗٥٨٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں علم کی تلاش کے لیے، ان کی وفات سے پہلے نکلے۔ سب سے پہلے ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو الیسر رضی اللہ عنہ سے ملے، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا اور ان کے پاس قرآن کے کچھ اجزا تھے۔ ابو الیسر رضی اللہ عنہ کے اوپر ایک معافری چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی۔ میرے والد نے کہا: اے چچا! میں آپ کے چہرے پر غصے کی وجہ سے سیاہی دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: فلاں بن فلاں «الْحَرَامِيِّ» ”حَرَامی“ (قبیلہ بنو حرام کے ایک فرد) کے ذمے میرا مال تھا۔ میں ان کے گھر آیا اور سلام کیا، میں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے، پھر اس کا چھوٹا بیٹا میرے پاس آیا، میں نے پوچھا: تمہارا والد کدھر ہے؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ میری امی کی چادر یا تکیہ کے پیچھے چھپ گئے۔ میں نے پکار کر کہا: باہر نکلو! میں جانتا ہوں کہ تم کہاں چھپے ہو؟ جب وہ باہر آیا تو میں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا کہ تم مجھ سے چھپ گئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو حقیقت بیان کروں گا، پھر کہا: میں جھوٹ نہیں بولوں گا، کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ میں آپ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں یا یہ کہ میں آپ سے وعدہ کروں اور وعدہ خلافی کروں، جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم! میں واقعی تنگ دست ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم!“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، اللہ کی قسم!“ میں نے پھر پوچھا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، اللہ کی قسم!“ پھر وہ معاہدے والا کاغذ اور صحیفہ لائے، اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور فرمایا: ”اگر تم قرض کی واپسی کی گنجائش پاؤ تو واپس کر دینا وگرنہ تم اس سے بری (آزاد) ہو۔“ میری ان دو آنکھوں نے دیکھا—اور انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں—اور میرے ان دو کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے اسے محفوظ رکھا—اور انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا—کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن) اپنا سایہ نصیب فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10975
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 3006»
حدیث نمبر: 10976
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَإِنَّ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةً" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ لَهُ: " بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ مَا لَمْ يَحِلَّ الدَّيْنُ فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَإِنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ الْحِلِّ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تنگ دست کو مہلت دی تو اس کے لیے ہر دن اس کے برابر صدقہ کا ثواب ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہر دن صدقہ؟ پھر میں نے آپ ﷺ سے کہا: ہر دن اسی کی مثل صدقہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے ہر دن صدقہ ہے، جب تک قرض ختم نہ ہو جائے اور جب قرض ختم ہو جائے، پھر وہ اس کو مہلت دیتا ہے تو اس کے لیے ہر دن اس کی مثل صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10976
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه2418»