کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بکری کی پیٹھ پر موجود اون، بکریوں کے تھنوں میں موجود دودھ، اور دودھ کے اندر موجود گھی کو (الگ کیے بغیر) بیچنے کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، أَوْ يُبَاعَ صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ، أَوْ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ "، تَفَرَّدَ بِرَفْعِهِ عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ أَرْسَلَهُ عَنْهُ وَكِيعٌ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”پھل پکنے سے پہلے یا بکریوں کے اوپر اون یا دودھ میں گھی یا تھنوں میں دودھ کی بیع کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
اسے مرفوع بیان کرنے میں عمر بن فروخ منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں، وکیع نے ان سے اسے مرسل روایت کیا ہے اور دوسروں نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
اسے مرفوع بیان کرنے میں عمر بن فروخ منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں، وکیع نے ان سے اسے مرسل روایت کیا ہے اور دوسروں نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَا نَشْتَرِي اللَّبَنَ فِي ضُرُوعِهَا، وَلَا الصُّوفَ عَلَى ظُهُورِهَا " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم تھنوں میں دودھ کی اور بکریوں کے اوپر اون کی بیع نہیں کرتے۔“
یہی موقوف روایت محفوظ ہے۔
یہی موقوف روایت محفوظ ہے۔