کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے بیچنے اور جس چیز کے تم مالک نہ ہو اسے فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10855
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَأنا عَلِيٌّ، أنا أَحْمَدُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي " - وَفِي رِوَايَةِ حَمَّادٍ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وہ چیز فروخت کرنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہ ہو۔
(ب) حماد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس کو فروخت نہ کر جو تیرے پاس نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10855
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10856
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ إِلَى ⦗٥٥٥⦘ أَهْلِ مَكَّةَ " أَنْ أَبْلِغْهُمْ عَنِّي أَرْبَعَ خِصَالٍ أَنْ لَا يَصْلُحَ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا بَيْعٌ وَسَلَفٌ، وَلَا بَيْعُ مَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا رِبْحُ مَا لَا يَضْمَنُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ والوں کی طرف روانہ کیا اور فرمایا: ”میری طرف سے ان کو چار خصلتوں کے بارے میں بتانا: 1۔ ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں، 2۔ بیع اور قرض، 3۔ جس کے مالک نہ ہوں اسے فروخت نہ کریں، 4۔ اس چیز کے نفع سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10856
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم برقم 10828»