کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جو آدمی لونڈی خریدنا چاہتا ہو تو وہ اس کے ان اعضاء کو دیکھ سکتا ہے جو ستر میں شامل نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّهُ كَانَ إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً كَشَفَ عَنْ سَاقِهَا وَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا، وَعَلَى عَجُزِهَا " وَكَأَنَّهُ كَانَ يَضَعُهَا عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی لونڈی خریدتے تو اس کی پنڈلی سے کپڑا ہٹاتے اور اس کے پستانوں کے درمیان اور اس کے سرینوں پر ہاتھ رکھتے تھے، اور یہ کپڑے کے اوپر سے ہوتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْخَلَّالُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بَأْسَ أَنْ يُقَلِّبَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا، وَيَنْظُرَ إِلَيْهَا مَا خَلَا عَوْرَتَهَا، وَعَوْرَتُهَا مَا بَيْنَ رُكْبَتِهَا إِلَى مَعْقِدِ إزَارِهَا " ⦗٥٣٨⦘ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَاضِي حَلَبَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ وَرَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَالْإِسْنَادَانِ جَمِيعًا ضِعِيفَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں کہ آدمی لونڈی کو چلا کر دیکھے جب وہ اس کو خریدنا چاہتا ہے اور پردہ والی جگہ کے علاوہ دوسری جگہ کو دیکھ سکتا ہے، اس کے پردہ کی جگہ گھٹنوں سے لے کر چادر وغیرہ باندھنے کی جگہ ہے۔“
اس روایت کو حفص بن عمر قاضی حلب نے صالح بن حسان سے اکیلے روایت کیا ہے، اور ہم نے اسے کتاب الصلاۃ میں عیسیٰ بن میمون عن محمد بن کعب کی سند سے بھی روایت کیا ہے، اور دونوں سندیں ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔
اس روایت کو حفص بن عمر قاضی حلب نے صالح بن حسان سے اکیلے روایت کیا ہے، اور ہم نے اسے کتاب الصلاۃ میں عیسیٰ بن میمون عن محمد بن کعب کی سند سے بھی روایت کیا ہے، اور دونوں سندیں ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔