کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فروخت کی گئی چیز کو اس شخص کی طرف سے ہبہ (تحفہ) کرنے کا بیان جس کے ہاتھ میں وہ ہے، اس سے پہلے کہ خریدار بائع (بیچنے والے) سے اس پر قبضہ کرے۔
حدیث نمبر: 10702
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ فَكَانَ يَغْلِبُنِي فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيَرُدُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " بِعْنِيهِ " قَالَ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " بِعْنِيهِ " فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک اونٹ پر سوار تھا، وہ مجھ پر غالب آ رہا تھا اور تمام لوگوں سے آگے بڑھ جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ڈانٹتے اور پیچھے کر دیتے، پھر وہ آگے بڑھ جاتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ڈانٹتے پھر پیچھے کر دیتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! مجھے فروخت کر دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ ﷺ ہی کا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے نبی ﷺ کے ہاتھ فروخت کر دیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمر! یہ تمہارا ہے، جو تمہارا دل چاہے اس کے ساتھ سلوک کرو۔“