کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کہ خرید و فروخت میں تین دن سے زیادہ خیار (اختیار) کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک دونوں الگ الگ نہ ہوں یا اختیاری بیع ہو۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ تجھے اختیار ہے۔ [صحیح: مسلم 1531]
حدیث نمبر: 10457
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ " ⦗٤٤٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے «الْمُصَرَّاةَ» ”مصراۃ“ (وہ جانور جس کا دودھ روکا گیا ہو) کو خریدا تو اس کو تین دن کا اختیار ہے، اگر واپس کرنا چاہے تو کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور کا بھی دے دے۔“
حدیث نمبر: 10458
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلًا ضَعِيفًا، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا اشْتَرَى ثَلَاثًا وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْ وَقُلْ لَا خِلَابَةَ " فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ: لَا خِذَابَةَ لَا خِذَابَةَ وَكَانَ يَشْتَرِي الشَّيْءَ، فَيَجِيءُ بِهِ أَهْلَهُ فَيَقُولُونَ هَذَا غَالٍ فَيَقُولُ: إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَنِي فِي بَيْعِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حبان بن منقذ ایک کمزور آدمی تھے، ان کے سر پر گہرے زخم کا نشان تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو تین دن کا اختیار ہے جو چیز بھی خریدے۔“ ان کی زبان بھی درست نہ تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فروخت کرو اور کہہ دو: دھوکا نہیں ہے۔“ میں ان سے سنتا تھا، وہ کہتے تھے: «لَا خِلَابَةَ، لَا خِلَابَةَ» ”دھوکا نہیں ہے، دھوکا نہیں ہے۔“ وہ چیز خرید کر اپنے گھر لاتے تو ان کے گھر والے کہتے: یہ مہنگی ہے، وہ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری بیع میں مجھے اختیار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 10459
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَتْ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَكَأَنِّي الْآنَ أَسْمَعُهُ إِذَا ابْتَاعَ يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ يَلُوثُ لِسَانُهُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أُصِيبَ فِي رَأْسِهِ آمَّةً فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَنَقَضَتْ عَقْلَهُ، وَكَانَ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، وَكَانَ لَا يَدَعُ التِّجَارَةَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا أَنْتَ بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ بَيْعٍ تَبْتَاعُهُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَرُدَّ " فَبَقِيَ حَتَّى أَدْرَكَ زَمَانَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ النَّاسُ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ فَكَانَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَرَجَعَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ: لِمَ تَشْتَرِي أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: قَدْ جَعَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ابْتَعْتُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا، فَيَقُولُونَ: ارْدُدْهُ فَإِنَّكَ قَدْ غُبِنْتَ، أَوْ قَالَ: غُشِشْتَ، فَيَرْجِعُ إِلَى بَيِّعِهِ فَيَقُولُ: خُذْ سِلْعَتَكَ وَرُدَّ دَرَاهِمِي، فَيَقُولُ: لَا أَفْعَلُ قَدْ رَضِيتُ. فَذَهَبْتَ بِهِ حَتَّى يَمُرَّ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَعَلَهُ بِالْخِيَارِ فِيمَا يَبْتَاعُ ثَلَاثًا فَيَرُدُّ عَلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَيَأْخُذُ سِلْعَتَهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری مرد سے سنا، اس کی زبان میں رکاوٹ تھی، اس نے نبی ﷺ سے بیع میں دھوکا ہو جانے کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بیع کرو تو کہہ دیا کرو: دھوکا نہیں۔ پھر جو بھی سامان تو خریدے تو اس میں تجھے تین دن کا اختیار ہے؛ اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند کرے تو واپس کر دے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اب میں اس سے سنتا ہوں، جب بھی وہ کوئی سامان خریدتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ”دھوکا نہیں۔“ اس کی زبان میں لکنت تھی۔
(ب) محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی، زبان میں لکنت ہو گئی، عقل کم ہو گئی، ان کو بیوع میں دھوکا ہو جاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں، پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے، اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔“
یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر 130 سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو گئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کر دیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو، آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے، تو وہ سامان واپس کر دیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ، آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی رضی اللہ عنہ پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کر دیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔
(ب) محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی، زبان میں لکنت ہو گئی، عقل کم ہو گئی، ان کو بیوع میں دھوکا ہو جاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں، پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے، اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔“
یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر 130 سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو گئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کر دیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو، آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے، تو وہ سامان واپس کر دیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ، آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی رضی اللہ عنہ پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کر دیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔
حدیث نمبر: 10460
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا أَبُو الشَّيْخِ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حدیث نمبر: 10461
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الرَّاسِبِيَّ النِّيلِيَّ، ثنا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخِيَارُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اختیار تین دن تک ہے۔“
حدیث نمبر: 10462
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: " مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ سَخِطَ تَرَكَ " وَرَوَاهُ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ مُخْتَصَرًا، وَلَمْ يَقُلْ: ضَرِيرَ الْبَصَرِ، وَالْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن یزید بن رکانہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیوع کے بارے میں بات کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں تمہارے لیے اس سے زیادہ وسعت نہیں پاتا جو نبی ﷺ نے حبان بن منقذ کو دی تھی۔“ کیونکہ ان کی نظر کمزور تھی تو رسول اللہ ﷺ نے تین دن ان کے لیے مقرر کیے: ”اگر سامان کو پسند کریں تو رکھ لیں وگرنہ واپس کر دیں۔“
(ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مختصر روایت کرتے ہیں، انہوں نے «ضَرِيرَ الْبَصَرِ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مختصر روایت کرتے ہیں، انہوں نے «ضَرِيرَ الْبَصَرِ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔