کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بیعِ خیار کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10454
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا الْحَاكَمُ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُعَدَّلُ، بِحَلَبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيَّ، ثنا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُوذِيَّ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ " وَكَانَ عُمَرُ أَوِ ابْنُ عُمَرَ يُنَادِي: الْبَيْعُ صَفْقَةٌ، أَوْ خِيَارٌ، وَرُوِيَ، عَنْ مُطَرِّفِ بن طَرِيفٍ تَارَةً، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ وتَارَةً، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْبَيْعُ صَفْقَةٌ أَوْ خِيَارٌ وَكِلَاهُمَا مَعَ الْأَوَّلِ ضَعِيفٌ؛ لِانْقِطَاعِ ذَلِكَ فَإِنْ صَحَّ فَالْمُرَادُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ بَيْعُ شَرْطٍ فِيهِ قَطْعُ الْخِيَارِ فَلَا يَكُونُ لَهُمَا بَعْدَ الصَّفْقَةِ خِيَارٌ، وَبَيْعٌ لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ قَطْعُ الْخِيَارِ فَهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَقَدْ ذَهَبَ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى تَضْعِيفِ الْأَثَرِ عَنْ عُمَرَ وَأنَّ الْبَيْعَ لَا يَجُوزُ فِيهِ شَرْطُ قَطْعِ الْخِيَارِ، وَأنَّ الْمُرَادَ بِبَيْعِ الْخِيَارِ إِمَّا التَّخْيِيرُ بَعْدَ الْبَيْعِ، أَوْ بَيْعُ شَرْطٍ فِيهِ خِيَارُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَلَا يَنْقَطِعُ خِيَارُهُمَا بِالتَّفَرُّقِ؛ لِمَكَانِ الشَّرْطِ، ⦗٤٤٨⦘ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ التَّخْيِيرَ بَعْدَ الْبَيْعِ إِلَّا أَنَّ نَافِعًا رُبَّمَا عَبَّرَ عَنْهُ بِبَيْعِ الْخِيَارِ، وَرُبَّمَا فَسَّرَهُ وَالَّذِي يُبَيِّنُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو انھیں اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں یا ان کی بیع ہی خیار کے ساتھ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10454
حدیث نمبر: 10455
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ " قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: اخْتَرْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو ان دونوں کو اختیار ہے، جب تک جدا جدا نہ ہوں یا دونوں کے درمیان بیع اختیاری ہو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اختیاری کا اعلان کریں۔
(ب) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پکی بیع یا اختیاری بیع یہ دونوں باتیں روایت کے منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ اگر یہ صحیح بھی ہوں تو اس سے مراد ایسا سودا جس میں بیع کے ختم کرنے کی شرط ہو۔ پھر سودے کے بعد ان دونوں کے لیے اختیار نہ ہوگا اور ایسا سودا جس میں بیع کے ختم کرنے کی شرط نہ ہو خود دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ اکثر علما نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سند کو ضعیف قرار دیا ہے اور سودے میں مطلق طور پر عام اختیار کی شرط لگانا جائز نہیں ہے اور بیع خیار سے مراد یا تو سودے کے بعد اختیار ہے یا تین دنوں کے اختیار کی شرط کے ساتھ سودا کرنا مراد ہے اس جگہ سے جدا ہونے کے باعث ان کا اختیار ختم نہ ہوگا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ارادہ تھا کہ سودے کے بعد اختیار ہو یہ زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10455