وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا الْحَاكَمُ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُعَدَّلُ، بِحَلَبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيَّ، ثنا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُوذِيَّ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ " وَكَانَ عُمَرُ أَوِ ابْنُ عُمَرَ يُنَادِي: الْبَيْعُ صَفْقَةٌ، أَوْ خِيَارٌ، وَرُوِيَ، عَنْ مُطَرِّفِ بن طَرِيفٍ تَارَةً، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ وتَارَةً، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْبَيْعُ صَفْقَةٌ أَوْ خِيَارٌ وَكِلَاهُمَا مَعَ الْأَوَّلِ ضَعِيفٌ؛ لِانْقِطَاعِ ذَلِكَ فَإِنْ صَحَّ فَالْمُرَادُ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ بَيْعُ شَرْطٍ فِيهِ قَطْعُ الْخِيَارِ فَلَا يَكُونُ لَهُمَا بَعْدَ الصَّفْقَةِ خِيَارٌ، وَبَيْعٌ لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهِ قَطْعُ الْخِيَارِ فَهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَقَدْ ذَهَبَ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى تَضْعِيفِ الْأَثَرِ عَنْ عُمَرَ وَأنَّ الْبَيْعَ لَا يَجُوزُ فِيهِ شَرْطُ قَطْعِ الْخِيَارِ، وَأنَّ الْمُرَادَ بِبَيْعِ الْخِيَارِ إِمَّا التَّخْيِيرُ بَعْدَ الْبَيْعِ، أَوْ بَيْعُ شَرْطٍ فِيهِ خِيَارُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَلَا يَنْقَطِعُ خِيَارُهُمَا بِالتَّفَرُّقِ؛ لِمَكَانِ الشَّرْطِ، ⦗٤٤٨⦘ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ التَّخْيِيرَ بَعْدَ الْبَيْعِ إِلَّا أَنَّ نَافِعًا رُبَّمَا عَبَّرَ عَنْهُ بِبَيْعِ الْخِيَارِ، وَرُبَّمَا فَسَّرَهُ وَالَّذِي يُبَيِّنُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو انھیں اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں یا ان کی بیع ہی خیار کے ساتھ ہو۔“ سیدنا عمر یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم اعلان کیا کرتے تھے: بیع یا تو پکا سودا ہے یا اختیار والی۔
مطرف بن طریف سے کبھی شعبی کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور کبھی عطاء بن ابی رباح کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے: ”بیع یا تو پکا سودا ہے یا اختیار والی۔“ یہ دونوں روایتیں پہلی روایت سمیت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، ایسی بیع ہے جس میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگائی گئی ہو، تو سودے کے بعد ان دونوں کو اختیار نہ ہوگا، اور جس بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو تو دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ بہت سے اہل علم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ کہ بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگانا جائز نہیں، اور بیع خیار سے مراد یا تو بیع کے بعد اختیار دینا ہے یا ایسی بیع جس میں تین دن کے اختیار کی شرط ہو، تو اس شرط کی وجہ سے جدا ہونے سے ان کا اختیار ختم نہ ہوگا۔ اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد، واللہ اعلم، بیع کے بعد اختیار دینا ہے، البتہ نافع کبھی اسے بیع خیار سے تعبیر کرتے اور کبھی اس کی وضاحت کر دیتے، اور جو چیز اسے واضح کرتی ہے وہ اگلی روایت ہے۔
مطرف بن طریف سے کبھی شعبی کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور کبھی عطاء بن ابی رباح کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے: ”بیع یا تو پکا سودا ہے یا اختیار والی۔“ یہ دونوں روایتیں پہلی روایت سمیت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، ایسی بیع ہے جس میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگائی گئی ہو، تو سودے کے بعد ان دونوں کو اختیار نہ ہوگا، اور جس بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو تو دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ بہت سے اہل علم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے، اور یہ کہ بیع میں اختیار ختم کرنے کی شرط لگانا جائز نہیں، اور بیع خیار سے مراد یا تو بیع کے بعد اختیار دینا ہے یا ایسی بیع جس میں تین دن کے اختیار کی شرط ہو، تو اس شرط کی وجہ سے جدا ہونے سے ان کا اختیار ختم نہ ہوگا۔ اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد، واللہ اعلم، بیع کے بعد اختیار دینا ہے، البتہ نافع کبھی اسے بیع خیار سے تعبیر کرتے اور کبھی اس کی وضاحت کر دیتے، اور جو چیز اسے واضح کرتی ہے وہ اگلی روایت ہے۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ " قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: اخْتَرْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک دونوں الگ الگ نہ ہوں یا اختیاری بیع ہو۔“ اور بسا اوقات نافع رحمہ اللہ نے کہا: یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ تجھے اختیار ہے۔ [صحیح: مسلم 1531]