کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بغیر ضرورت کے سواری پر دیر تک کھڑے رہنے اور ضرورت کے وقت اس سے نہ اترنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ، وَجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَاتِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم جانوروں کی پشتوں کو منبر بنانے سے بچو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے تمہارے لیے ان کو مسخر کر دیا تاکہ ﴿وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ﴾ [سورة النحل: 7] (وہ تم کو ایسے شہروں تک پہنچائیں جہاں تم صرف اپنے نفسوں کو مشقت میں ڈال کر ہی جا سکتے ہو) اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، اس پر اپنی ضرورت کو پورا کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً وَايْتَدِعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَأَظُنُّهُ آدَمَ بْنَ أَبِي إِيَاسٍ بَدَلَ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
سہل بن معاذ بن انس اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم ان صحت مند جانوروں پر سواری کرو اور تندرست ہی واپس کرو اور ان کو تخت یا کرسی نہ بناؤ۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً (یہی روایت ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے)۔