السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية دوام الوقوف على الدابة لغير حاجة، وترك النزول عنها للحاجة باب: بغیر ضرورت کے سواری پر دیر تک کھڑے رہنے اور ضرورت کے وقت اس سے نہ اترنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10335
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ، وَجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَاتِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم جانوروں کی پشتوں کو منبر بنانے سے بچو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے تمہارے لیے ان کو مسخر کر دیا تاکہ ﴿وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ﴾ [سورة النحل: 7] (وہ تم کو ایسے شہروں تک پہنچائیں جہاں تم صرف اپنے نفسوں کو مشقت میں ڈال کر ہی جا سکتے ہو) اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، اس پر اپنی ضرورت کو پورا کرو۔“