کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہر اس ہدی کا گوشت نہیں کھایا جائے گا جو اصالتاً واجب ہو جیسے ایذا رسانی کا فدیہ، حج فاسد کرنے کا دم، شکار کا کفارہ، نذر، حج تمتع، حج قران اور دیگر واجب قربانیاں۔
حدیث نمبر: 10245
رَوَيْنَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " فِي الْحَمَامَةِ شَاةٌ لَا يُؤْكَلُ مِنْهَا يُتَصَدَّقُ بِهَا "، وَرُوِّينَا عَنْهُ فِي الَّذِي يَطَأُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ الطَّوَافِ: " انْحَرْ نَاقَةً سَمِينَةً فَأَطْعِمْهَا الْمَسَاكِينَ ⦗397⦘ وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُمَا قَالَا: " لَا يَأْكُلْ مِنْ جَزَاءِ الصَّيْدِ، وَلَا مِنَ الْفِدْيَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہم پہلے عطاء رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”(محرم اگر) کبوتر (کو مار دے تو اس) میں ایک بکری (کا دم) ہے، اس میں سے کھایا نہیں جائے گا بلکہ اسے صدقہ کر دیا جائے گا۔“
اور ہمیں انہی سے اس شخص کے بارے میں روایت پہنچی ہے جو طوافِ (زیارت) سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کر لے کہ: ”ایک موٹی تازی اونٹنی نحر کرو اور اسے مسکینوں کو کھلا دو۔“
اور ہمیں طاؤس اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”(محرم) شکار کے بدلے (کے جانور) میں سے اور فدیہ (کے جانور) میں سے نہ کھائے۔“
اور ہمیں انہی سے اس شخص کے بارے میں روایت پہنچی ہے جو طوافِ (زیارت) سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کر لے کہ: ”ایک موٹی تازی اونٹنی نحر کرو اور اسے مسکینوں کو کھلا دو۔“
اور ہمیں طاؤس اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ”(محرم) شکار کے بدلے (کے جانور) میں سے اور فدیہ (کے جانور) میں سے نہ کھائے۔“
حدیث نمبر: 10245
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقُمَّلُ يَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً " قَالَ أَيُّوبُ: مَا أَدْرِي بِأِيِّ ذَلِكَ بَدَأَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَعُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، حدیبیہ کا زمانہ تھا اور میں ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ جوئیں تجھے تکلیف نہیں دیتیں؟“ میں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”سر کے بال مونڈ دے، تین دن کے روزے رکھ، یا چھ مساکین کو کھانا کھلا یا ایک قربانی کر۔“ ایوب کہتے ہیں: میں نہیں جانتا انہوں نے کس سے ابتدا کی۔