کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کرنے والے کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی قربانی ذبح کرنے کے مستحب ہونے کا بیان، اور اس میں کسی کو نائب بنانے اور پھر ذبح کے وقت وہاں موجود ہونے کے جواز کا بیان، اس مغفرت کی امید میں جو خون بہتے وقت متوقع ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10223
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُوسَوِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا غَبَرَ وَكَانَتْ مَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ ثُمَّ أُخِذَ مِنْ لَحْمِ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةٌ وَطُبِخَ جَمِيعًا فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کو نحر کیا، آپ ﷺ نے تیس اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا، میں نے تمام کو نحر کر دیا۔
حدیث نمبر: 10224
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثُلُثَيْنِ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا " قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرِوَايَةُ جَعْفَرٍ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے پاس جاؤ، کیوں کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تمہارے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئے اور کہو کہ میری نماز، قربانی اور میرا جینا، مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمان برداری کرنے والوں میں سے ہوں“، کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ اور آپ کے گھر والوں کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کے لیے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انہوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انہوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 10225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُشْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ ⦗٣٩٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فَاطِمَةُ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِهِ، وَقُولِي: {إنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: ١٦٣] " قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: " بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ لَمْ نَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ولَيْسَ بِقَوِيٍّ، وَرُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوكٌ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أنه قَالَ: " لَا يَذْبَحُ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ "، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَذْبَحَ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ "، وَنَحْنُ نَكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ مَا كَرِهَا وَإِنْ فَعَلَ فَلَا إِعَادَةَ عَلَى صَاحِبِهِ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ} [المائدة: ٥] يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ ذَبَائِحَهُمْ وَنَحْنُ نَذْكُرُهُ بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الذَّبَائِحَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”منیٰ کا میدان مکمل قربان گاہ ہے اور ایام تشریق
(١١، ١٢، ١٣ ذوالحج) تمام قربانی کے ایام ہیں۔“
(١١، ١٢، ١٣ ذوالحج) تمام قربانی کے ایام ہیں۔“