کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: قربانی کی اونٹنی کا دودھ اس کے بچے کے سیراب ہونے کے بعد ہی پیا جائے، اور اس کے بچے کو اسی پر سوار کیا جائے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ يَعْنِي ابْنَ حَذَفٍ الْعَبْسِيَّ، سَمِعَ رَجُلًا مِنْ هَمْدَانَ سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَى بَقَرَةً؛ لِيُضَحِّيَ بِهَا فَنُتِجَتْ، فَقَالَ: " لَا تَشْرَبْ لَبَنَهَا إِلَّا فَضْلًا، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَاذْبَحْهَا وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن حذف عبسی نے ہمدان کے ایک آدمی سے سنا، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا جس نے قربانی کے لیے گائے خریدی تھی، پھر اس نے بچہ جنم دیا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا دودھ صرف زائد ہی پیا جائے (یعنی بچے سے بچا ہوا)، اور جب قربانی کا دن ہو تو گائے اور اس کے بچے کو سات آدمیوں کی جانب سے ذبح کر دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10210
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 84»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا نُتِجَتِ الْبَدَنَةُ فَلْيُحْمَلْ وَلَدُهَا حَتَّى يُنْحَرَ مَعَهَا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَهُ مَحْمَلًا فَلْيُحْمَلْ عَلَى أُمِّهِ حَتَّى يُنْحَرَ مَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے: جب قربانی کا اونٹ بچے کو جنم دے تو اس کے بچے کو (کسی سواری پر) لاد لیا جائے یہاں تک کہ اسے اس کے ساتھ ہی نحر کر دیا جائے۔ اگر کوئی سواری نہ ملے جس پر اس کو رکھا جا سکے تو اس کی ماں پر ہی اس کو سوار کر لیا جائے یہاں تک کہ اسے اس کے ساتھ ہی نحر کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10211
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك847»
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: " إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى بَدَنَتِكَ فَارْكَبْهَا رُكُوبًا غَيْرَ فَادِحٍ وَإِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى لَبَنِهَا فَاشْرَبْ مَا بَعْدَ رِيِّ فَصِيلِهَا وَإِذَا نَحَرْتَهَا فَانْحَرْ فَصِيلَهَا مَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تو قربانی والے جانور پر سواری کے لیے مجبور ہو جائے تو اس پر مشقت ڈالے بغیر سواری کر لے، اور جب تو اس کے دودھ کی طرف مجبور ہو تو اس کے بچے کو سیراب کرنے کے بعد جو باقی ہو وہ پی لے، اور جب تو اس کو ذبح کرے تو اس کے بچے کو بھی اس کے ساتھ ہی ذبح کر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10212
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1476»