کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کی اونٹنی کا دودھ اس کے بچے کے سیراب ہونے کے بعد ہی پیا جائے، اور اس کے بچے کو اسی پر سوار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 10210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ يَعْنِي ابْنَ حَذَفٍ الْعَبْسِيَّ، سَمِعَ رَجُلًا مِنْ هَمْدَانَ سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَى بَقَرَةً؛ لِيُضَحِّيَ بِهَا فَنُتِجَتْ، فَقَالَ: " لَا تَشْرَبْ لَبَنَهَا إِلَّا فَضْلًا، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَاذْبَحْهَا وَوَلَدَهَا عَنْ سَبْعَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے تھے کہ جب قربانی کا جانور بچے کو جنم دے تو اس کے بچے کو اس پر لاد دیا جائے اور قربانی کے دن بچے کو بھی اس کے ساتھ ہی ذبح کر دیا جائے۔ اگر کوئی دوسری سواری نہ ملے جس پر اس کو رکھا جا سکے تو اس کی والدہ پر ہی اس کو سوار کر لیں اور قربانی کے دن دونوں (یعنی ماں اور بچے) کو ذبح کر دیں۔
حدیث نمبر: 10211
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا نُتِجَتِ الْبَدَنَةُ فَلْيُحْمَلْ وَلَدُهَا حَتَّى يُنْحَرَ مَعَهَا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَهُ مَحْمَلًا فَلْيُحْمَلْ عَلَى أُمِّهِ حَتَّى يُنْحَرَ مَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تو قربانی والے جانور پر سواری کے لیے مجبور ہو جائے تو اس پر مشقت ڈالے بغیر سواری کر لے، اور جب تو اس کے دودھ کی طرف مجبور ہو تو اس کے بچے کو سیراب کرنے کے بعد جو باقی ہو وہ پی لے، اور جب تو اس کو ذبح کرے تو اس کے بچے کو بھی اس کے ساتھ ہی ذبح کر۔
حدیث نمبر: 10212
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: " إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى بَدَنَتِكَ فَارْكَبْهَا رُكُوبًا غَيْرَ فَادِحٍ وَإِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَى لَبَنِهَا فَاشْرَبْ مَا بَعْدَ رِيِّ فَصِيلِهَا وَإِذَا نَحَرْتَهَا فَانْحَرْ فَصِيلَهَا مَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھائی اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ پھر یہاں رات گزاری اور صبح کے وقت اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ جب سواری بیدا پہاڑی پر چڑھی تو آپ ﷺ نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا، پھر حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ پھر لوگوں نے بھی حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب ہم آئے تو آپ ﷺ نے کہا: پھر لوگوں نے بھی حج و عمرہ کا تلبیہ کہا۔ جب ہم آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو عمرہ میں تبدیل کر دو، پھر 8 ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لینا“ اور رسول اللہ ﷺ نے سات قربانیاں اپنے ہاتھ سے کھڑے کر کے کیں۔ آپ ﷺ نے مدینہ میں سینگوں والے دو مینڈھے ذبح کیے۔