کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: انسان قربانی کے جانوروں کو پٹہ ڈالنے اور نشان زد کرنے سے محرم نہیں بن جاتا درآں حالیکہ وہ احرام کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرْشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حُرِّمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حَلَالًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے قلادے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر آپ ﷺ ان کو اشعار کرتے اور قلادے پہناتے، پھر بیت اللہ کی طرف روانہ کرتے اور مدینہ میں قیام فرماتے؛ جو چیز آپ ﷺ کے لیے حلال ہوتی تھی آپ ﷺ پر حرام نہ ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10188
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1321»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَهُوَ مُقِيمٌ مَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ وَكَانَ بَلَغَهَا أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَهْدَى وَتَجَرَّدَ، قَالَ: فَقَالَتْ هَلْ كَانَ لَهُ كَعْبَةٌ يَطُوفُ بِهَا فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تُحَرَّمُ عَلَيْهِ الثِّيَابُ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نبی ﷺ کی قربانیوں کے قلادے بناتی تھی، آپ ﷺ ان کو بیت اللہ کی طرف روانہ کر دیتے اور خود مقیم رہتے، آپ ﷺ ان اشیاء سے اجتناب نہ فرماتے جن سے محرم بچتا ہے۔ انہیں یہ خبر پہنچی کہ زیاد بن ابی سفیان نے قربانی روانہ کی اور (احرام والوں کی طرح) کپڑے اتار دیے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا اس کے لیے کوئی کعبہ ہے کہ وہ اس کا طواف کرے؟ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس پر کپڑے حرام ہو جائیں (پھر) اس کے لیے حلال ہوں یہاں تک کہ وہ کعبہ کا طواف کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10189
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1611»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادًا كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حُرِّمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ أَوْ مُرِي صَاحِبَ الْهَدْيِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللهُ لَهُ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ زیاد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جس نے قربانی روانہ کی اس پر وہ تمام کام حرام ہیں جو حج کرنے والے پر، یہاں تک کہ قربانی کو دی جائے اور میں نے اپنی قربانی روانہ کر دی ہے تو آپ اپنا فتویٰ لکھ کر دیں یا قربانی والے کو حکم دیں“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”بات ایسے نہیں جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہی ہے، میں رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے قلادے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھوں سے قلادے پہناتے تھے، پھر اپنی قربانی میرے والد کے ساتھ روانہ کر دیتے تو رسول اللہ ﷺ پر تو کوئی چیز حرام نہ ہوتی تھی جو اللہ نے ان کے لیے جائز رکھی ہے، قربانی ہونے تک۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٣٨٣⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ أَوَّلُ مَنْ كَشَفَ الْعَمَى عَنِ النَّاسِ وَبَيَّنَ لَهُمُ السُّنَّةَ فِي ذَلِكَ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مُقَلَّدًا وَهُوَ مُقِيمٌ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ " فَلَمَّا بَلَغَ النَّاسَ قَوْلُ عَائِشَةَ هَذَا أَخَذُوا بِقَوْلِهَا وَتَرَكُوا فَتْوَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَى فِي هَذَا الْمَعْنَى مَسْرُوقٌ، وَالْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے جس نے لوگوں کو اندھیرے سے نکالا اور ان کے لیے سنت کو واضح کیا، وہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ رحمہا اللہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بناتی تھی، آپ ﷺ اپنی قربانی کو قلادہ ڈال کر روانہ کر دیتے اور بذاتِ خود مدینہ میں مقیم رہتے۔ پھر قربانی کے ذبح ہونے تک کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فرماتے تھے۔ جب لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول پہنچا تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات قبول کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتوے کو چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10191
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1318»