کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قربانی کے جانوروں پر جھولیں ڈالنے اور ان کی جھولوں اور کھالوں کے ساتھ جو کیا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 10184
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: وَثنا سُلَيْمَانُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلَالِ الْبُدْنِ الَّتِي نُحِرَتْ وَبِجُلُودِهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانیوں کے جھول اور ان کے ذریعے کچھ کپڑے تیار کرتے تھے جن کو کعبہ کے غلاف کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10184
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 849»
حدیث نمبر: 10185
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُجَلِّلُ بُدْنَهُ بِالْقَبَاطِي وَالْأَنْمَاطِ وَالْحُلَلِ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْكَعْبَةِ فَيَكْسُوهَا إِيَّاهَا.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانیوں کے جھول کے ساتھ کیا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کا غلاف بنایا جاتا تو وہ اس کو صدقہ کر دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10185
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 10186
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ دِينَارٍ: مَا كَانَ يَصْنَعُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ كُسِيَتِ الْكَعْبَةُ هَذِهِ الْكِسْوَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَتَصَدَّقُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانیوں کے جھول پھاڑتے نہ تھے اور نہ ہی جھول پہناتے تھے، یہاں تک کہ منیٰ کی صبح جب عرفہ کی طرف جاتے۔ دوسروں نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ صرف کوہان کی جگہ پر جب نحر کرتے تو جھول اتار لیتے اس ڈر سے کہ کہیں خون اس کو خراب نہ کر دے، پھر اس کو صدقہ کر دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10186
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 850»
حدیث نمبر: 10187
قَال: وحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لَا يَشُقُّ جِلَالَ بُدْنِهِ وَكَانَ لَا يُجِلِّلُهَا حَتَّى يَغْدُوَ بِهَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ " زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ إِلَّا مَوْضِعَ السَّنَامِ فَإِذَا نَحَرَهَا نَزَعَ جِلَالَهَا مَخَافَةَ أَنْ يُفْسِدَهَا الدَّمُ ثُمَّ يَتَصَدَّقُ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے قلادے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر آپ ﷺ ان کو اشعار کرتے اور قلادے پہناتے، پھر بیت اللہ کی طرف روانہ کرتے اور مدینہ میں قیام فرماتے؛ جو چیز آپ ﷺ کے لیے حلال ہوتی تھی آپ ﷺ پر حرام نہ ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10187
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1612»