کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کے جانوروں پر جھولیں ڈالنے اور ان کی جھولوں اور کھالوں کے ساتھ جو کیا جائے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالَا: ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: وَثنا سُلَيْمَانُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلَالِ الْبُدْنِ الَّتِي نُحِرَتْ وَبِجُلُودِهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَبِيصَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے (نبی اکرم ﷺ نے) حکم دیا کہ: ”میں قربانیوں کے جھول اور چمڑے یعنی کھال کو صدقہ کر دوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُجَلِّلُ بُدْنَهُ بِالْقَبَاطِي وَالْأَنْمَاطِ وَالْحُلَلِ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْكَعْبَةِ فَيَكْسُوهَا إِيَّاهَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی قربانیوں کو قباطی (مصری کتان کے کپڑوں)، قالینوں اور جوڑوں کے جھول پہناتے، پھر انہیں کعبہ کی طرف بھیج دیتے اور کعبہ کو وہ پہنا دیتے تھے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ دِينَارٍ: مَا كَانَ يَصْنَعُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ كُسِيَتِ الْكَعْبَةُ هَذِهِ الْكِسْوَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَتَصَدَّقُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانیوں کے جھول کے ساتھ کیا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کا غلاف بنایا جاتا تو وہ اس کو صدقہ کر دیتے۔
قَال: وحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لَا يَشُقُّ جِلَالَ بُدْنِهِ وَكَانَ لَا يُجِلِّلُهَا حَتَّى يَغْدُوَ بِهَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ " زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ إِلَّا مَوْضِعَ السَّنَامِ فَإِذَا نَحَرَهَا نَزَعَ جِلَالَهَا مَخَافَةَ أَنْ يُفْسِدَهَا الدَّمُ ثُمَّ يَتَصَدَّقُ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانیوں کے جھول پھاڑتے نہ تھے اور نہ ہی جھول پہناتے تھے، یہاں تک کہ منیٰ کی صبح جب عرفہ کی طرف جاتے۔ دوسروں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے: سوائے کوہان کی جگہ کے، اور جب نحر کرتے تو جھول اتار لیتے اس ڈر سے کہ کہیں خون اس کو خراب نہ کر دے، پھر اس کو صدقہ کر دیتے۔