کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کیا جس نے شکار مارا ہو وہ چوپایوں کے علاوہ کسی اور چیز سے اس کا فدیہ دے سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 9894
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا} [المائدة: 95] قَالَ: عَطَاءٌ: " أَيَّتَهُنَّ شَاءَ وَكُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ، أَوْ، أَوْ، فَلْيَخْتَرْ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَا شَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ نے شکار کے بدلے کے بارے میں فرمایا: ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا﴾ ”ایسی قربانی جو کعبہ تک پہنچنے والی ہو یا کفارہ کے طور پر مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے۔“ [سورة المائدة: 95]
امام عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں سے جو چاہے (اختیار کر لے)، اور قرآن مجید میں جہاں بھی (أَوْ، أَوْ) ”یا، یا“ کا لفظ آیا ہے، تو اس شخص کو اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جسے چاہے چن لے۔“
امام عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان میں سے جو چاہے (اختیار کر لے)، اور قرآن مجید میں جہاں بھی (أَوْ، أَوْ) ”یا، یا“ کا لفظ آیا ہے، تو اس شخص کو اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جسے چاہے چن لے۔“
حدیث نمبر: 9894
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] " لَهُ أَيَّتُهُنَّ شَاءَ " وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ فِي الْقُرْآنِ أَوْ، أَوْ، لَهُ أَيُّهُ شَاءَ "، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: إِلَّا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ} [المائدة: ٣٣] فَلَيْسَ بِمُخِيِّرٍ فِيهَا، ⦗٣٠٣⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ فِي الْمُحَارِبِ وَغَيْرِهِ فِي الْمَسْأَلَةِ أَقُولُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو چیز چاہے دے۔
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز قرآن میں موجود ہے جو پسند کرے دے دے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔“ اس میں اختیار ہے۔
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز قرآن میں موجود ہے جو پسند کرے دے دے۔
ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔“ اس میں اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 9895
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو قربانی کرو، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو اور اگر چاہو تو چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلاؤ۔“