قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} [المائدة: 95] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْمِثْلُ مِثْلُ صِفَةِ مَا قَتَلَ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ ”تو اس کا بدلہ اسی کے مثل چوپایوں میں سے ہے۔“ [سورة المائدة: 95]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور مثل (برابر) سے مراد اس شکار کی صفت کے مثل ہے جسے اس نے قتل کیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور مثل (برابر) سے مراد اس شکار کی صفت کے مثل ہے جسے اس نے قتل کیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِنْ قَتَلَ صَيْدًا أَعْوَرَ أَوْ مَنْقُوصًا فَدَاهُ بِأَعْوَرَ مِثْلِهِ، أَوْ مَنْقُوصٍ، وَوَافٍ أَحَبُّ إِلِيَّ، وَإِنْ قَتَلَ صِغَارَ أَوْلَادِ الصَّيْدِ فَدَاهُ بِصِغَارِ أَوْلَادِ الْغَنَمِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر محرم نے کانا یا ناقص شکار کیا تو اس کا فدیہ بھی کانے اور ناقص جانور سے دیا جائے گا۔ اس کا مکمل فدیہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اگر شکار کا چھوٹا بچہ قتل کرتا ہے تو اس کے عوض بکری کا چھوٹا بچہ دیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَهْدَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَدْيِهِ جَمَلًا لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ؛ لِيَغِيظَ بِهِ الْمُشْرِكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھی بھیجا، اس کے ناک میں چاندی کی نکیل تھی تاکہ مشرکین کو غصہ آئے۔