کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ضب (سانڈے) کے فدیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 9890
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ أَرْبَدَ، أَوْطَأَ ضَبًّا فَفَزَرَ ظَهْرَهُ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا تَرَى؟ "، فَقَالَ: جَدْيًا قَدْ جَمَعَ الْمَاءَ وَالشَّجَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَذَلِكَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
طارق فرماتے ہیں کہ اربد نے گوہ کو کمر سے روند کر زخمی کر دیا، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے سوال کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: ایک بکری کا بچہ، اس نے پانی اور درخت کو جمع کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں یہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9890
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم 9764»