أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّاجِرُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الضَّبُعِ، أَنَأْكُلُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عمار کہتے ہیں: میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ملا، میں نے پوچھا: کیا ہم بجو کھا لیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے پوچھا: کیا یہ شکار ہے؟ کہنے لگے: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، وَعَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: " هِيَ صَيْدٌ " وَجَعَلَ فِيهَا كَبْشًا إِذَا أَصَابَهَا الْمُحْرِمُ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجٍ، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصَادَهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصَابَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے بجو کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شکار ہے، اس کے عوض محرم کو ایک مینڈھا قربان کرنا پڑے گا جب وہ اس کا شکار کرلے گا۔“
(ب) حجاج کی روایت میں ہے کہ بعض نے شکار کا کہا اور بعض نے قتل کا کہا۔
(ب) حجاج کی روایت میں ہے کہ بعض نے شکار کا کہا اور بعض نے قتل کا کہا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضَّبُعُ صَيْدٌ فَكُلْهَا وَفِيهَا كَبْشٌ سَمِينٌ إِذَا أَصَابَهَا الْمُحْرِمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بجو شکار ہے اس کو کھا اور اس کے عوض موٹا تازہ مینڈھا ہے جب محرم اس کو شکار کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بجو کے عوض ایک مینڈھے کا فیصلہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " أنْزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَبُعًا صَيْدًا وَقَضَى فِيهَا كَبْشًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: وَهَذَا حَدِيثٌ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ لَوِ انْفَرَدَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا قَالَهُ لِانْقِطَاعِهِ ثُمَّ أَكَّدَهُ بِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ حَدِيثٌ جَيِّدٌ تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ، فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثُ عِكْرِمَةَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بجو شکار ہے“ اور آپ ﷺ نے اس کے عوض ایک مینڈھے کا فیصلہ فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس جیسی حدیث اگر اکیلی ہو تو ثابت نہیں ہوتی۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے یہ بات اس کے منقطع ہونے کی وجہ سے کہی ہے، پھر انہوں نے اسے ابن ابی عمار عن جابر کی حدیث سے مؤکد کیا، اور ابن ابی عمار کی حدیث عمدہ حدیث ہے جس سے حجت قائم ہوتی ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ صحیح حدیث ہے۔ شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عکرمہ کی حدیث موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس جیسی حدیث اگر اکیلی ہو تو ثابت نہیں ہوتی۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے یہ بات اس کے منقطع ہونے کی وجہ سے کہی ہے، پھر انہوں نے اسے ابن ابی عمار عن جابر کی حدیث سے مؤکد کیا، اور ابن ابی عمار کی حدیث عمدہ حدیث ہے جس سے حجت قائم ہوتی ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ صحیح حدیث ہے۔ شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عکرمہ کی حدیث موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْقِرْمِيسِينِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضَّبُعُ صَيْدٌ " وَجَعَلَ فِيهِ كَبْشًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بجو شکار ہے اور اس کے عوض ایک مینڈھا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ، وَفِي الْغَزَالِ بِعَنْزٍ، وَفِي الْأَرْنَبِ بِعَنَاقٍ، وَفِي الْيَرْبُوعِ بِجَفْرَةٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ مَرْفُوعًا وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بجو میں ایک مینڈھے کا فیصلہ فرمایا، اور ہرن میں ایک بکری، اور خرگوش کے عوض بھیڑ کے ایک سال کا بچہ، اور چوہے کے عوض بکری کا بچہ۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الضَّبُعِ كَبْشٌ، وَفِي الظَّبْيِ شَاةٌ، وَفِي الْأَرْنَبِ عَنَاقٌ، وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةٌ " فَقُلْتُ: يَعْنِي لِأَبِي الزُّبَيْرِ: ومَا الْجَفْرَةُ؟ قَالَ: " الْعَظِيمُ " يَعْنِي عَظِيمَ الْحُمْلَانِ. تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَغَيْرُهُ، عَنِ الْأَجْلَحِ. هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بجو کے عوض ایک مینڈھا ہے، ہرن کے عوض ایک بکری، خرگوش کے عوض بکری کا ایک سالہ بچہ اور چوہے کے عوض «جفرہ» (بکری کا بچہ) ہے۔“ میں نے ابوزبیر رحمہ اللہ سے پوچھا کہ «الْجَفْرَةُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: بکری یا بھیڑ کا موٹا تازہ بچہ۔
وَرُوِيَ عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ⦗٣٠٠⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا وَقَدْ رَفَعَهُ أَنَّهُ حُكْمٌ، فَذَكَرَهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا أَقْرَبُ مِنَ الصَّوَابِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یہ روایت اجلح سے، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی گئی ہے، (راوی نے) کہا: میرا خیال یہی ہے کہ انہوں نے اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کیا ہے کہ یہ فیصلہ ہے، پھر پوری روایت ذکر کی۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ درستی کے زیادہ قریب ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ اسی طرح عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ درستی کے زیادہ قریب ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ اسی طرح عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الضَّبُعِ كَبْشًا، وَفِي الظَّبْيِ شَاةً، وَفِي الْأَرْنَبِ جَفْرَةً، وَفِي الْيَرْبُوعِ عَنَاقًا " كَذَا فِي كِتَابِي " جَفْرَةً فِي الْأَرْنَبِ، وَعَنَاقًا فِي الْيَرْبُوعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بجو کے عوض ایک مینڈھے کا فیصلہ فرمایا اور ہرن کے عوض بکری کا، خرگوش کے عوض بکری کے ایک سالہ بچے کا اور چوہے کے عوض ایک سالہ بکری کے بچے کا۔ اسی طرح میری کتاب میں ہے کہ بھیڑ کا بچہ خرگوش کے عوض، بکری کا بچہ چوہے کے عوض ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " فِي الضَّبُعِ كَبْشٌ " رَوَاهُ مُجَاهِدٌ، وَعِكْرِمَةُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، بجو کے عوض ایک مینڈھا ہے۔