کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کی رخصت دی ہے اگرچہ وہ جنگجو نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِقُدَيْدٍ جَاءَهُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ آتے ہوئے جب ”قدید“ نامی جگہ آئے تو ان کو مدینہ سے کوئی خبر ملی تو وہ واپس لوٹ گئے اور مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہوئے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْخُلُ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ، فَقَالَ: " لَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ، ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوتا ہے تو فرمانے لگے: میں اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي، قَالَ: فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً، قَالَ: " كُلُوهُ " وَهُمْ مُحْرِمُونَ ⦗٢٩١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابوقتادہ کو ان کے والد نے خبر دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر غزوہ حدیبیہ میں حصہ لیا۔ میرے علاوہ دوسروں نے عمرہ کا احرام باندھا، تو میں نے وحشی گدھے کا شکار کیا اور اسے اپنے محرم ساتھیوں کو کھلا دیا۔ پھر میں نے آکر نبی ﷺ کو خبر دی اور ہمارے پاس زائد گوشت بھی تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ“ اور وہ سب محرم تھے۔
(ب) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو محمد، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب ہم ”قاحہ“ نامی جگہ آئے تو ہم میں سے بعض محرم تھے اور بعض غیر محرم۔
(ب) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو محمد، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب ہم ”قاحہ“ نامی جگہ آئے تو ہم میں سے بعض محرم تھے اور بعض غیر محرم۔