کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے سواری تیز دوڑانے کو مستحب نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 9530
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقْفُونَ حَافَّتَيِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعِصِيَّ، فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا، فَأَنْفَرَتْ بِالنَّاسِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَيْ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تیز چلنا بدویوں نے شروع کیا، وہ لوگوں کے اطراف میں کھڑے ہوتے، انہوں نے لاٹھیاں لٹکا رکھی ہوتیں۔ جب وہ لوٹتے تو تیزی کرتے اور لوگوں کو جلدی میں ڈالتے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ کی اونٹنی کی گردن کجاوے کے ساتھ لگ رہی ہوتی اور آپ ﷺ فرماتے: ”اے لوگو! تم سکون کو لازم پکڑو۔“
حدیث نمبر: 9531
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، ثنا عَبِيدَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: حَتَّى أَتَى جَمْعًا، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عرفہ سے لوٹے اور جمع پہنچے، پھر فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو ردیف بنایا اور فرمایا: ”اے لوگو! نیکی اونٹوں اور گھوڑوں کو دوڑانے میں نہیں ہے، لہٰذا تم سکون کو لازم پکڑو۔“
میں نے اس سواری کو اپنے اگلے پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ ﷺ منیٰ آگئے۔
میں نے اس سواری کو اپنے اگلے پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ ﷺ منیٰ آگئے۔
حدیث نمبر: 9532
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي عَزْرَةُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ أَفَاضَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئُ وَفِي رِوَايَةِ عَفَّانَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَلَمَّا أَفَاضَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الثَّانِي: إِنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، ⦗٢٠٧⦘ وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، وَكَانَ يُنْكِرُ الْإِيضَاعَ، وَعَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَحْدَثَ هَؤُلَاءِ الْإِسْرَاعَ يُرِيدُونَ أَنْ يَفُوتُوا الْغُبَارَ، وَقَدْ رُوِّينَا الْإِيضَاعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ أَثْبَتَ دُونَ قَوْلِ مَنْ نَفَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفہ سے لوٹے، آپ کی سواری نے اپنے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچے اور مجھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ وہ مزدلفہ سے نبی ﷺ کے ردیف تھے۔ آپ کی سواری نے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
عفان کی روایت میں ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ ﷺ کے ردیف تھے، جب آپ ﷺ لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی۔ [صحیح]
طاؤس یمانی رحمہ اللہ نے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ یہ انہوں نے ایجاد کی ہے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے جس نے ثابت کیا ہے، ماسوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
عفان کی روایت میں ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ ﷺ کے ردیف تھے، جب آپ ﷺ لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی۔ [صحیح]
طاؤس یمانی رحمہ اللہ نے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ یہ انہوں نے ایجاد کی ہے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے جس نے ثابت کیا ہے، ماسوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔