حدیث نمبر: 9523
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آپ ﷺ محسر میں آئے تو آپ ﷺ نے تھوڑی حرکت (تیزی) کی۔
حدیث نمبر: 9524
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَفْصٌ، ثنا قَبِيصَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: " خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوٹے اور آپ ﷺ پر سکینت تھی اور آپ ﷺ نے ان کو بھی سکینت کا حکم دیا اور وادیِ محسر میں تیزی سے چلے اور انہیں حکم دیا کہ جمروں کو چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور فرمایا: ”مجھ سے مناسک سیکھ لو، شاید کہ میں تمہیں اس سال کے بعد نہ دیکھ سکوں۔“
حدیث نمبر: 9525
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٢٠٥⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا، فَفَزَّعَ نَاقَتَهُ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِيَ، فَوَقَفَ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جمع سے لوٹے حتیٰ کہ وادی محسر پہنچے تو اپنی اونٹنی کو دوڑایا حتیٰ کہ وادی سے گزر گئے، پھر ٹھہرے، پھر سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کو ردیف بنایا، پھر جمرہ کے پاس آئے اور اس کو مارا۔
حدیث نمبر: 9526
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَهُوُ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْعَبَّاسِ، يُحَدِّثُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالْفَضْلُ رَدِيفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ كَثِيرٌ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قُلْتُ: سَيُحَدِّثُنِي الْفَضْلُ عَمَّا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْفَضْلُ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْسِكُ بِزِمَامِ بَعِيرِهِ وَجَعَلَ يُنَادِي النَّاسَ " عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " فَلَمَّا بَلَغَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ جَمِيعًا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ثُمَّ دَفَعَ، وَدَفَعَ النَّاسُ مَعَهُ يُمْسِكُ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ وَجَعَلَ يَقُولُ: " أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ " حَتَّى إِذَا بَلَغَ مُحَسِّرًا أَوْضَعَ شَيْئًا وَجَعَلَ يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عرفہ کا دن تھا تو سیدنا فضل رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے ردیف تھے اور نبی ﷺ کے گرد لوگ بہت زیادہ تھے۔ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو میں نے کہا: مجھے فضل بتا ہی دے گا کہ نبی ﷺ نے کیا کیا، سیدنا فضل رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ گئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہی چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے لوگوں کو کہنے لگے: ”تم سکون کو لازم پکڑو۔“ جب مزدلفہ پہنچے تو اترے اور مغرب اور عشاء ادا کی حتیٰ کہ فجر طلوع ہوئی، صبح پڑھائی پھر مشعر حرام کے پاس مزدلفہ میں ٹھہرے رہے۔ پھر لوٹے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے اپنے اونٹ کے سر کو پکڑا ہوا تھا اور کہہ رہے تھے: ”اے لوگو! آرام و سکون سے چلو“ حتیٰ کہ جب محسر میں پہنچے تو رفتار تھوڑی سی تیز کی اور کہنے لگے: ”چھوٹی کنکریوں کو لازم پکڑو۔“
حدیث نمبر: 9527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ قَالَا: أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْمُسْتَهِلِّ الْمَعْرُوفُ بِدَرَّانٍ بِحَلَبَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي مَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُوضِعُ وَيَقُولُ: ".
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سواری کو بھگا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”تیری طرف دوڑتے ہیں پریشان و اداس اور اس کے مضبوط لوگ، اس کا دین عیسائیوں کے دین کے مخالف ہے۔“
اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما بہت تیز دوڑایا کرتے تھے، انہوں نے یہ طریقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا ہے، یعنی وادیِ محسر میں سواری کو دوڑانا۔
اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما بہت تیز دوڑایا کرتے تھے، انہوں نے یہ طریقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لیا ہے، یعنی وادیِ محسر میں سواری کو دوڑانا۔
حدیث نمبر: 9528
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُحَرِّكُ رَاحِلَتَهُ فِي بَطْنِ مُحَسِّرٍ قَدْرَ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی سواری کو وادیٔ محسر میں کنکری پھینکنے کی طرح حرکت دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 9529
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٢٠٦⦘ عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا نَفَرَتْ غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَإِذَا جَاءَتْ بَطْنَ مُحَسِّرٍ قَالَتْ لِي " ازْجُرِي الدَّابَّةَ وَارْفَعِيهَا "، قَالَتْ: فَزَجَرْتُهَا يَوْمًا، فَوَقَعَتِ الدَّابَّةُ عَلَى يَدَيْهَا وَعَلَيْهَا الْهَوْدَجُ ثُمَّ زَجَرْتُهَا الثَّانِيَةَ فَرَفَعَهَا اللهُ فَلَمْ يَضُرَّهَا شَيْئًا وَكَانَتْ تَرْفَعُ دَابَّتَهَا حَتَّى تَقْطَعَ بَطْنَ مُحَسِّرٍ وَتَدْخُلَ بَطْنَ مِنًى وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ کی صبح جب سواری کو بھگاتیں، جب وہ وادیٔ محسر کے وسط میں پہنچتیں تو مجھے فرماتیں: سواری کو جھڑکو (بھگاؤ) اور اس کو بلند کرو۔ (اُم علقمہ) فرماتی ہیں: میں نے ایک دن سواری کو ڈانٹا تو سواری... گر گئی اور کجاوہ ان کے اوپر آ گیا۔ پھر دوسری دفعہ میں نے سواری کو ڈانٹا تو اللہ نے... بلند کر دیا اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا۔ وہ اپنی سواری کو اٹھاتی (بلند کرتی) تھیں حتیٰ کہ وادیٔ محسر کو عبور کر کے منیٰ کی وادی (وسط) میں داخل ہو جاتی تھیں۔