کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس نے مزدلفہ میں جہاں بھی وقوف کر لیا وہ اسے کفایت کر جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سارا عرفہ موقف ہے اور سارا مزدلفہ موقف ہے اور سارا منیٰ منحر ہے اور مکہ کی ہر گلی منحر اور راستہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " هَذَا عَرَفَةُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ" ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ" حَتَّى أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " هَذَا قُزَحُ وَهُوَ الْمَوْقِفُ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ" وَقَالَ يَعْنِي بِمِنًى: " هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبْدَانَ انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ: فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ، وَقَالَ يُعْنِقُ عَلَى بَعِيرِهِ بَدَلَ قَوْلِهِ: يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ میں ٹھہرے تو فرمایا: ”یہ عرفہ ہے اور یہ موقف ہے اور عرفہ سارے کا سارا موقف ہے“، پھر عرفہ سے لوٹے جس وقت سورج غائب ہوا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو ردیف بنایا اور آپ ﷺ آرام سے چل رہے تھے اور لوگ دائیں بائیں جانب بھاگ رہے تھے، آپ ﷺ ان کی طرف نہ دیکھتے اور فرماتے: ”اے لوگو! تم سکون کو لازم پکڑو“، حتیٰ کہ مزدلفہ میں آئے۔ وہاں دو نمازیں ادا کیں۔ جب صبح ہوئی تو قزح پہنچے اور فرمایا: ”یہ قزح ہے اور یہ موقف ہے اور جمع سارے کا سارا موقف ہے“ اور منیٰ میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ منحر ہے اور منیٰ سارے کا سارا منحر ہے“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ عَنِ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، فَسَكَتَ حَتَّى أَفَاضَ وَتَلَبَّطَتْ أَيْدِي الرِّكَابِ فِي تِلْكَ الْجِبَالِ، فَقَالَ: " هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ " كَذَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَقِيلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مشعر حرام کے بارے میں پوچھا، جب وہ عرفہ میں تھے تو وہ خاموش رہے حتیٰ کہ وہاں سے لوٹے اور سواریوں کے پاؤں ان پہاڑوں پر رگڑ کھانے لگے تو انہوں نے کہا: یہ مشعر حرام ہے۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو یا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " اذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، قَالَ: هُوَ الْجَبَلُ وَمَا حَوْلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 198] سے مراد وہ پہاڑ اور اس کا اردگرد ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، فَقَالَ: " مَا بَيْنَ جَبَلَيْ جَمْعٍ " وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: " أَظُنُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ لَيْلَةَ جَمْعٍ مَنَازِلَ الْأَئِمَّةِ الْآنَ لَيْلَةَ جَمْعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے «الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ» ”مشعرِ حرام“ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مزدلفہ کے دو پہاڑوں کے درمیان جو ہے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ جمعہ کی رات اس جگہ اترے جہاں اب ائمہ اترتے ہیں۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ جمعہ کی رات اس جگہ اترے جہاں اب ائمہ اترتے ہیں۔