السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : حيث ما وقف من المزدلفة أجزأه باب: اس نے مزدلفہ میں جہاں بھی وقوف کر لیا وہ اسے کفایت کر جائے گا۔
حدیث نمبر: 9505
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ عَنِ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، فَسَكَتَ حَتَّى أَفَاضَ وَتَلَبَّطَتْ أَيْدِي الرِّكَابِ فِي تِلْكَ الْجِبَالِ، فَقَالَ: " هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ " كَذَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَقِيلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مشعر حرام کے بارے میں پوچھا، جب وہ عرفہ میں تھے تو وہ خاموش رہے حتیٰ کہ وہاں سے لوٹے اور سواریوں کے پاؤں ان پہاڑوں پر رگڑ کھانے لگے تو انہوں نے کہا: یہ مشعر حرام ہے۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو یا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔