حدیث نمبر: 9372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجِ وداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور رکن کو اپنی لاٹھی سے چھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 9373
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ، ⦗١٦٢⦘ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ قَبَّلَهُ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا، جب بھی رکن کے پاس آتے تو کسی چیز کے ساتھ جو آپ کے ہاتھ میں ہوتی اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔
حدیث نمبر: 9374
أَخْبَرَنَاهُ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَفَّارُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَبِزِيَادَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَزِيدُ: يُقَبِّلُ ذَلِكَ الشَّيْءَ الَّذِي فِي يَدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9375
وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِي فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ اسْتَلَمَهُ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ، يَعْنِي مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، ثنا عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ وَعَبْدُ الْأَعْلَى قَالَا: ثنا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ كَذَا قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَهَذِهِ زِيَادَةٌ تَفَرَّدَ بِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ بَيَّنَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ وَعَائِشَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ الْمَعْنَى طَوَافَهُ رَاكِبًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آئے اور وہ بیمار تھے، آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر ہی بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب بھی رکن پر آتے تو اپنی لاٹھی کے ساتھ استلام فرماتے، جب طواف سے فارغ ہوئے تو اونٹنی کو بٹھایا اور دو رکعتیں ادا کیں۔
حدیث نمبر: 9376
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ؛ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشَوْهُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا، آپ ﷺ رکن کو لاٹھی کے ساتھ چھوتے تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں اور آپ ﷺ سے سوال کر سکیں، کیوں کہ لوگوں نے آپ ﷺ کو ڈھانپ لیا تھا۔
حدیث نمبر: 9377
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؛ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشَوْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف اپنی اونٹنی پر کیا تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں اور سوال کر سکیں کیوں کہ لوگوں نے آپ ﷺ کو ڈھانپ لیا تھا۔
حدیث نمبر: 9378
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو كَامِلٍ ⦗١٦٣⦘ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: فَقَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهَزَلِ "، قَالَ: " وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ "، قَالَ: " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا "، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّى خَرَجْنَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ "، قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ "، قَالَ: " فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ " لَفْظُ عِمْرَانَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابوطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ بیت اللہ کا طواف تین چکر رمل اور چار چل کر سنت ہے؟ آپ کی قوم تو سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ کہا ہے۔ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ کہنے کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی کمزوری کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں گے اور وہ اس پر حسد کرتے تھے، تو ان کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”تین چکر رمل کریں اور چار چل کر لگائیں“، کہتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھے طواف کے بارے میں بتاؤ۔ صفا مروہ کے درمیان کیا یہ سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ آپ کی قوم تو یہی سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی، میں نے کہا: آپ کے یہ کہنے کا کیا مقصد کہ سچ اور جھوٹ کہا ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ پر لوگ زیادہ ہو گئے تھے اور کہتے تھے: یہ محمد ﷺ ہیں، حتیٰ کہ لڑکیاں بھی گھروں سے نکلیں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا۔ جب وہ زیادہ ہو گئے تو سوار ہو گئے اور چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ [صحیح: مسلم: 1264]
حدیث نمبر: 9379
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: " صَدَقُوا وَكَذَبُوا "، قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " صَدَقُوا قَدْ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُدْفَعُ عَنْهُ النَّاسُ وَلَا يُصْرَفُونَ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرِهِ؛ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر صفا و مروہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ بولتے ہیں۔ میں نے کہا: یہ سچ اور جھوٹ بولنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ پر طواف کیا ہے اور جھوٹ یہ کہ وہ سنت ہے، رسول اللہ ﷺ سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ ﷺ نے اونٹ پر طواف کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کی بات سن سکیں اور آپ ﷺ تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں۔
حدیث نمبر: 9380
وَأَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، إِمْلَاءً، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ؛ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُصْرَفَ عَنْهُ النَّاسُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں کعبہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا، آپ ﷺ رکن کو چھوتے تھے، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ لوگوں کو آپ ﷺ سے ہٹایا جائے۔
حدیث نمبر: 9381
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مَعْرُوفٌ يَعْنِي ابْنَ خَرَّبُوذَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ حَوْلَ الْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے گرد اونٹ پر دیکھا، آپ ﷺ اپنی لاٹھی سے حجر اسود کو چھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 9382
وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَعْرُوفٍ، وَزَادَ فِيهِ: " ثُمَّ يُقَبِّلُهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ⦗١٦٤⦘ فَطَافَ سَبْعًا عَلَى رَاحِلَتِهِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ فَذَكَرَهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الطَّيَالِسِيِّ، عَنْ مَعْرُوفٍ دُونَ ذِكْرِ الْبَعِيرِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَيْضًا هَذِهِ الزِّيَادَةَ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا ابْنُ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَقَدْ رَوَاهُ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9383
وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ مُلَيْكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا جَدِّي يَزِيدُ بْنُ مُلَيْكٍ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " أَمَّا شُعْبَةُ الَّذِي طَافَ لِمَقْدِمِهِ فَعَلَى قَدَمَيْهِ؛ لِأَنَّ جَابِرًا الْمَحْكِيُّ عَنْهُ فِيهِ أَنَّهُ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَمَشَى أَرْبَعَةً فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ جَابِرٌ يُحْكَى عَنْهُ الطَّوَافُ مَاشِيًا وَرَاكِبًا فِي سَبْعٍ وَاحِدٍ، وَقَدْ حُفِظَ أَنَّ سَبْعَهُ الَّذِي رَكِبَ فِيهِ فِي طَوَافِهِ يَوْمَ النَّحْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو حجۃ الوداع میں اپنی اونٹنی پر طواف کرتے دیکھا، آپ ﷺ رکن کو اپنی لاٹھی سے چھوتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سات چکر جو طوافِ قدوم ہے، وہ شروع میں ہے، کیوں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں منقول ہے کہ تین چکر رمل کیا، چار چکر آہستہ چلے، تو ممکن نہیں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس کے متعلق پیدل یا سوار کی حکایت صرف ساتویں طواف میں بیان کرتے ہوں۔ انہوں نے یہ بات یاد رکھی کہ آپ کا وہ طواف جس میں آپ سوار ہوئے، یومِ نحر کے دن تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سات چکر جو طوافِ قدوم ہے، وہ شروع میں ہے، کیوں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں منقول ہے کہ تین چکر رمل کیا، چار چکر آہستہ چلے، تو ممکن نہیں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اس کے متعلق پیدل یا سوار کی حکایت صرف ساتویں طواف میں بیان کرتے ہوں۔ انہوں نے یہ بات یاد رکھی کہ آپ کا وہ طواف جس میں آپ سوار ہوئے، یومِ نحر کے دن تھا۔
حدیث نمبر: 9384
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُهَجِّرُوا بِالْإِفَاضَةِ وَأَفَاضَ فِي نِسَائِهِ لَيْلًا عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ أَحْسَبُهُ قَالَ: " وَيُقَبِّلُ طَرَفَ الْمِحْجَنِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ أَنَّهُ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا فَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ فِي سَعْيِهِ بَعْدَ طَوَافِ الْقُدُومِ، فَأَمَّا بَعْدَ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ فَلَمْ يُحْفَظْ عَنْهُ أَنَّهُ طَافَ بَيْنَهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ”صبح کو جلد ہی طوافِ افاضہ کریں“ اور آپ ﷺ نے رات کے وقت اپنی ازواج رضی اللہ عنہن سمیت اونٹ پر سوار ہو کر افاضہ کیا، آپ ﷺ حجرِ اسود کو اپنی لاٹھی کے ساتھ چھوتے اور اس کے کنارے کو بوسہ دیتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان طواف سواری پر کیا تو ان کی مراد، واللہ اعلم،
اس سعی میں ہے جو طوافِ قدوم یا طوافِ افاضہ کے بعد ہے۔ آپ ﷺ سے یہ منقول نہیں کہ آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان طواف کیا۔ واللہ اعلم
شیخ فرماتے ہیں: جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان طواف سواری پر کیا تو ان کی مراد، واللہ اعلم،
اس سعی میں ہے جو طوافِ قدوم یا طوافِ افاضہ کے بعد ہے۔ آپ ﷺ سے یہ منقول نہیں کہ آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان طواف کیا۔ واللہ اعلم
حدیث نمبر: 9385
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَا: أنبأ أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ " كَذَا قَالَا، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَيْمَنَ فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَا صَحِيحَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
قدامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو صفا و مروہ کا اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرتے دیکھا، نہ ہی مار کٹائی تھی اور نہ ہی شور شرابہ۔
حدیث نمبر: 9386
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٦٥⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَاكْتَسَرَهَا، ثُمَّ قَامَ بِهَا عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ وَأَنَا أَنْظُرُ فَرَمَى بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ اطمینان کے ساتھ فتح مکہ والے سال داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے حجر اسود کو چھوتے، پھر کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ اس میں لکڑی کا بنا کبوتر دیکھا تو اس کو توڑ دیا۔ پھر اس کو لے کر کعبہ کے دروازے پر آئے اور اس کو پھینک دیا اور میں دیکھ رہی تھی۔
حدیث نمبر: 9387
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ "، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں بیمار ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لیں۔“ کہتی ہیں کہ میں نے طواف کیا جب آپ ﷺ بیت اللہ کی ایک جانب نماز پڑھ رہے تھے اور سورہ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔