کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے وادی (نشیب) کے درمیان تیز دوڑنا چھوڑ دیا اور معمول کے مطابق چلا۔
حدیث نمبر: 9371
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عُمَرَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ: أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ؟، قَالَ: " إنْ أَمْشِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا اور مروہ کی سعی میں کہا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں، آپ چلتے ہیں اور لوگ سعی کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: ”اگر میں چلوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو چلتے دیکھا ہے اور اگر میں سعی کروں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو سعی کرتے دیکھا ہے اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔“