أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ فَيَرْمُلُونَ تَقُولُ قُرَيْشٌ كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اضطباع کیا (احرام باندھ کر ایک کندھے کو ننگا کرنا اضطباع کہلاتا ہے)، استلام کیا اور تکبیر بلند کی۔ پھر تین چکر دوڑے اور جب وہ رکن یمانی کے پاس پہنچتے اور قریش سے غائب ہو جاتے تو آہستہ چلتے، پھر ان پر ظاہر ہوتے تو دوڑتے، قریش کہتے: یہ تو ہرنیوں کی طرح ہیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پس یہ سنت بن گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ، يَعْنِي ابْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: " ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں چاشت کے وقت داخل ہوتے، بیت اللہ کے پاس آتے، استلام کرتے اور «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَرَّ بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَرَأَى عَلَيْهِ زِحَامًا اسْتَقْبَلَهُ وَكَبَّرَ وَقَالَ: " اللهُمَّ تَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب حجر اسود کے پاس سے گزرتے اور وہاں رش دیکھتے تو اس کی طرف متوجہ ہو کر تکبیر کہتے اور فرماتے: «اللّٰهُمَّ تَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ، وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ» ”اے اللہ! تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے نبی ﷺ کی سنت کو ادا کرتے ہوئے“۔
وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ: " اللهُمَّ إِيمَانًا بِكَ، وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ، وَاتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُطَيَّنٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب حجرِ اسود کا استلام کرتے تو کہتے: «اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ، وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ، وَاتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ» ”اے اللہ! تجھ پر ایمان لاتے ہوئے، تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے (میں یہ استلام کر رہا ہوں)۔“