حدیث نمبر: 9249
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَكَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ فَيَرْمُلُونَ تَقُولُ قُرَيْشٌ كَأَنَّهُمُ الْغِزْلَانُ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَانَتْ سُنَّةً.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اضطباع کیا (احرام باندھ کر ایک کندھے کو ننگا کرنا اضطباع کہلاتا ہے)، استلام کیا اور تکبیر بلند کی۔ پھر تین چکر دوڑے اور جب وہ رکن یمانی کے پاس پہنچتے اور قریش سے غائب ہو جاتے تو آہستہ چلتے، پھر ان پر ظاہر ہوتے تو دوڑتے، قریش کہتے: یہ تو ہرنیوں کی طرح ہیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پس یہ سنت بن گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9249
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداود 1889۔ ابن ماجه 2953»