حدیث نمبر: 9195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ الْقَزَّازُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ بِعَرَفَةَ فَوَقَصَتْهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ " أَوْ قَالَ: " فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے ساتھ اپنی اونٹنی پر سوار میدان عرفات میں کھڑا تھا، اس کی اونٹنی نے اس کو گرا دیا تو وہ مر گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے دو اور دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ، اس کا سر نہ ڈھانپو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائے گا۔“
حدیث نمبر: 9196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعَ عَمْرًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَادْفِنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ وَهُوَ يُهِلُّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری سے گرا، اس کا منکا ٹوٹا اور وہ مر گیا جب کہ وہ محرم تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور اس کو اسی کے دو کپڑوں میں دفن کر دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، یقیناً اللہ اس کو اس حال میں اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔“
حدیث نمبر: 9197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ زَادَ: قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: وَزَادَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ قَالَ: زَادَ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث ہی بیان کی اور اس بات کا اضافہ کیا کہ ”خوشبو اس کے قریب بھی نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 9198
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنًا لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُوُفِّيَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يُخَمِّرْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُقَرِّبْهُ طِيبًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا حالتِ احرام میں فوت ہو گیا، تو انہوں نے اس کا سر نہ ڈھانپا اور خوشبو نہ لگائی۔