کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان کا بیان جنہوں نے محرم کے لیے دھوپ میں رہنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: أَبْصَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا عَلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَدِ اسْتَظَلَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ لَهُ: اضْحَ لِمَنْ أَحْرَمْتَ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو اپنے اونٹ پر سوار دیکھا جو سورج سے سایہ کیے ہوئے تھا جب کہ وہ محرم تھا تو انہوں نے فرمایا: جس کے لیے تو نے احرام باندھا ہے اس کے لیے دھوپ میں رہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9192
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن ابي شيبه 14253»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ جَعَلَ عَلَى وَسَطِ رَاحِلَتِهِ عُودًا وَجَعَلَ ثَوْبًا يَسْتَظِلُّ بِهِ مِنَ الشَّمْسِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَقِيَهُ ابْنُ عُمَرَ فَنَهَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اونٹنی کے درمیان میں لکڑی رکھی ہوئی تھی اور اس پر کپڑا رکھ کر سایہ حاصل کر رہے تھے جبکہ وہ محرم تھے۔ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما ملے تو انہوں نے اس کو منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9193
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلشَّمْسِ حَتَّى تَغْرُبَ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَمَا قَبْلَهُ مَوْقُوفٌ وَحَدِيثُ أُمِّ الْحُصَيْنِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو محرم شخص بھی سورج کی دھوپ میں رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ سورج اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے، حتیٰ کہ وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور اس سے پہلے والی روایت موقوف ہے، اور ام حصین رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9194
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن ماجه 2925۔ احمد 3/ 373»