کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حجِ تمتع کی قربانی میسر نہ آنے اور روزہ رکھنے کے وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " الصِّيَامُ لِمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا مَا بَيْنَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ إِلَى يَوْمِ عَرَفَةَ، فَمَنْ لَمْ يَصُمْ صَامَ أَيَّامَ مِنًى " قَالَ: وَحدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. قَالَ: وَتَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ فِي كِتَابِ الصِّيَامِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس شخص کے لیے روزے ہیں جو حج تمتع کرے اور قربانی اس کو نہ ملے، حج کا تلبیہ کہنے سے یومِ عرفہ تک اور جو ان دنوں میں روزہ نہ رکھ سکے وہ منیٰ کے ایام میں رکھ لے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عِيسَى يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُمَا قَالَا: لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ تُصَامَ إِلَّا مَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَبِمَا مَضَى مِنْ لَفْظِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایامِ تشریق میں صرف اس شخص کو روزہ رکھنے کی رخصت ہے ”جس کو قربانی نہ ملے۔“
یہی صحیح ہے، انہی الفاظ کے ساتھ اور امام مالک کی حدیث کے ان الفاظ کے ساتھ جو پیچھے گزر چکے ہیں۔
یہی صحیح ہے، انہی الفاظ کے ساتھ اور امام مالک کی حدیث کے ان الفاظ کے ساتھ جو پیچھے گزر چکے ہیں۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، حدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ الْبَصْرِيُّ أَنَّ شُعْبَةَ، حدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى فَاتَتْهُ أَيَّامُ الْعَشْرِ أَنْ يَصُومَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ مَكَانَهَا ⦗٣٧⦘ كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي لَيْلَى وَأَمَّا الْأَخْبَارُ الَّتِي رُوِيَتْ فِي النَّهْيِ عَنِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ عَلَى الْجُمْلَةِ، فَقَدْ مَضَى ذِكْرُهَا فِي كِتَابِ الصِّيَامِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجِ تمتع کرنے والے کو رخصت دی ہے کہ ”جب اس کو قربانی نہ ملے اور روزہ بھی پہلے نہ رکھ سکے تو وہ ایامِ تشریق میں روزے رکھ لے۔“
یحییٰ بن سلام نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہیں۔
یحییٰ بن سلام نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ {فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ} [البقرة: ١٩٦] قَالَ: قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، وَيَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ﴾ [سورة البقرة: 196] (تین دن کے روزے رکھے) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک دن یومِ ترویہ سے پہلے اور ایک دن یومِ ترویہ اور ایک دن اس کے بعد۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَصُومُ بَعْدَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ إِذَا فَاتَهُ الصَّوْمُ وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: يَصُومُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ إِذَا فَاتَهُ الصَّوْمُ. وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَصُومُهَا إِلَّا وَهُوَ مُحرِمٌ. حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَما مَوْصُولٌ، وَقَدْ قَالَا فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ مَا يَدُلُّ عَلَى الرُّخْصَةِ، وَالرُّخْصَةُ تَكُونُ بَعْدَ النَّهْيِ عَلَى الْجُمْلَةِ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ مُنْقَطِعٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب روزے رہ جائیں تو ایامِ تشریق کے بعد رکھ لے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ایامِ تشریق میں روزے رکھے گا جب اس کا روزہ فوت ہو جائے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ محرم ہونے کی حالت میں روزہ رکھے گا۔
ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی حدیث موصول ہے، جبکہ محمد بن علی کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔ واللہ اعلم۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ایامِ تشریق میں روزے رکھے گا جب اس کا روزہ فوت ہو جائے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ محرم ہونے کی حالت میں روزہ رکھے گا۔
ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی حدیث موصول ہے، جبکہ محمد بن علی کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي النَّوَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: خُفَافٌ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ قَالَ: إِذَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ ⦗٣٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفُوا فِي اسْمِ هَذَا الرَّجُلِ فَقِيلَ هَكَذَا، وَقِيلَ: أَبُو الْخُفَافِ، وَقِيلَ حِبَّانُ السُّلَمِيُّ صَاحِبُ الدَّفِينَةِ وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
بنو سلیم کے ایک خفاق نامی آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ﴿تین دن ایامِ حج میں اور سات واپس جا کر روزہ رکھنے﴾ [سورة البقرة: 196] کا کیا معنی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: گھر واپس جا کر۔
شیخ فرماتے ہیں: ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، ایک اسی نام کا، دوسرا ابوالحفاق ہے اور تیسرا قول ہے کہ حبان سلمی اس کا نام ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، ایک اسی نام کا، دوسرا ابوالحفاق ہے اور تیسرا قول ہے کہ حبان سلمی اس کا نام ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ هُوَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يَطُوفُ الرَّجُلُ بِالْبَيْتِ مَا كَانَ حَلَالًا حَتَّى يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَإِذَا رَكِبَ إِلَى عَرَفَةَ فَمَنْ تَيَسَّرَ لَهُ هَدْيُهُ مِنَ الْإِبِلِ، أَوِ الْبَقَرِ، أَوِ الْغَنَمِ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ ذَلِكَ، أِيَّ ذَلِكَ شَاءَ غَيْرَ إنْ لَمْ يَتَيَسَّرْ لَهُ فَعَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، وَذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنْ كَانَ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلَا جُنَاحَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آدمی جب تک حلال (یعنی بغیر احرام کے) ہے بیت اللہ کا طواف کرتا رہے، حتیٰ کہ حج کا تلبیہ کہے اور جب عرفہ کی طرف جانے لگے تو اونٹ، گائے یا بکری کوئی بھی قربانی اس کو میسر آ جائے تو ٹھیک اور اگر میسر نہ آئے تو یوم عرفہ سے پہلے تین دن روزے رکھے، اگر تین دنوں میں سے آخری دن یوم عرفہ ہو جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ جَمَعْتُ مَعَ حَجٍّ عُمْرَةً فَقَالَ: مَا مَعَكَ مِنَ الْوَرَقِ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: لَيْسَ فِي هَذِهِ فَضْلٌ عَشَرَةٌ مِنْهَا تَعْلِفُ رَاحِلَتَكَ، وَعَشَرَةٌ تَزَوَّدُ بِهَا وَعَشَرَةٌ تَكْتَسِي بِهَا وَعَشَرَةٌ تُكَافِئُ بِهَا أَصْحَابَكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کو جمع کیا ہے، انہوں نے پوچھا: تیرے پاس چاندی ہے؟ اس نے کہا: چالیس درہم ہیں۔ انہوں نے کہا: اس میں سے کچھ بھی نہیں بچے گا، دس درہم کا تو چارہ تیری سواری کھا لے گی اور دس کو زادِ راہ کے طور پر تو استعمال کر لے گا اور دس تیرے لباس وغیرہ پر لگ جائیں گے اور دس تو اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے گا۔