السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الإعواز من هدي المتعة ووقت الصوم باب: حجِ تمتع کی قربانی میسر نہ آنے اور روزہ رکھنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 8905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ جَمَعْتُ مَعَ حَجٍّ عُمْرَةً فَقَالَ: مَا مَعَكَ مِنَ الْوَرَقِ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: لَيْسَ فِي هَذِهِ فَضْلٌ عَشَرَةٌ مِنْهَا تَعْلِفُ رَاحِلَتَكَ، وَعَشَرَةٌ تَزَوَّدُ بِهَا وَعَشَرَةٌ تَكْتَسِي بِهَا وَعَشَرَةٌ تُكَافِئُ بِهَا أَصْحَابَكَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کو جمع کیا ہے، انہوں نے پوچھا: تیرے پاس چاندی ہے؟ اس نے کہا: چالیس درہم ہیں۔ انہوں نے کہا: اس میں سے کچھ بھی نہیں بچے گا، دس درہم کا تو چارہ تیری سواری کھا لے گی اور اسے زادِ راہ کے طور پر تو استعمال کر لے گا اور دس تیرے لباس وغیرہ پر لگ جائیں گے اور دس تو اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے گا۔