أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَجُّ جِهَادٌ وَالْعُمْرَةُ تَطَوُّعٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْكِتَابِ: فَقُلْتُ لَهُ يَعْنِي بَعْضَ الْمَشْرِقِيِيِنَ أَتُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هُوَ مُنْقَطِعٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا وَالطَّرِيقُ فِيهِ إِلَى شُعْبَةَ طَرِيقٌ ضَعِيفٌ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا وَمُحَمَّدٌ هَذَا مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوصالح حنفی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حج کرنا جہاد ہے اور عمرہ نفل ہے“۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب میں فرمایا: میں نے اس سے (یعنی اہل مشرق میں سے ایک شخص سے) کہا: کیا تم اس جیسی روایت کو نبی ﷺ سے ثابت مانتے ہو؟ تو اس نے کہا: یہ منقطع ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث شعبہ عن معاویہ بن اسحاق عن ابی صالح عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موصول ہے اور شعبہ تک سند ضعیف ہے۔ اور اسے محمد بن فضل بن عطیہ نے سالم افطس سے، انہوں نے ابن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ محمد متروک ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب میں فرمایا: میں نے اس سے (یعنی اہل مشرق میں سے ایک شخص سے) کہا: کیا تم اس جیسی روایت کو نبی ﷺ سے ثابت مانتے ہو؟ تو اس نے کہا: یہ منقطع ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: حدیث شعبہ عن معاویہ بن اسحاق عن ابی صالح عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موصول ہے اور شعبہ تک سند ضعیف ہے۔ اور اسے محمد بن فضل بن عطیہ نے سالم افطس سے، انہوں نے ابن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ محمد متروک ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ وَفَرِيضَتُهَا كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ؟ قَالَ: " لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ " كَذَا قَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ذَكَرَهُ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَرَوَاهُ الْبَاغَنْدِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ قَالَ عَنْ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَهَذَا وَهْمٌ مِنَ الْبَاغَنْدِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ عَنْ جَعْفَرٍ، كَمَا رَوَاهُ النَّاسُ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْمَتْنُ بِالْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا عمرہ واجب ہے اور حج کی طرح فرض ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اگر عمرہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔“
اس سند میں عبیداللہ سے مراد عبیداللہ بن مغیرہ ہیں، ابوالزبیر سے اسے بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں، اور یہ متن صرف حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے محمد بن منکدر عن جابر کی سند سے معروف ہے۔
اس سند میں عبیداللہ سے مراد عبیداللہ بن مغیرہ ہیں، ابوالزبیر سے اسے بیان کرنے میں وہ منفرد ہیں، اور یہ متن صرف حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے محمد بن منکدر عن جابر کی سند سے معروف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ⦗٥٧٠⦘ عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاجِبَةٌ الْعُمْرَةُ قَالَ: " لَا وَأَنَ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكٌ " كَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا عمرہ واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں اور اگر تو عمرہ کرلے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے“۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ فَرِيضَةٌ كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ، قَالَ: " لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ وَرُوِيَ عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا بِخِلَافِ ذَلِكَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: کیا عمرہ واجب ہے اور حج کی طرح فرض ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، لیکن اگر تو عمرہ کر لے تو تیرے لیے بہتر ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے یہی موقوف روایت محفوظ ہے، مرفوع نہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، اور دونوں ضعیف ہیں۔
جابر رضی اللہ عنہ سے یہی موقوف روایت محفوظ ہے، مرفوع نہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے برعکس مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، اور دونوں ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦] يَقُولُ: " هِيَ وَاجِبَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عون رحمہ اللہ یہ آیت ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] پڑھتے: ”حج و عمرہ کو اللہ کے لیے مکمل کرو۔“ تو فرماتے کہ یہ واجب ہے۔