کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بچے پر روزے کی فرضیت لازم نہیں یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور نہ ہی پاگل پر یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 8307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ زَنَتْ، وَهِيَ تُرْجَمُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَرْتَ بِرَجْمِ فُلَانَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ "؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهَا فَخَلَّى عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر ایک ایسی عورت کے پاس سے ہوا جس نے زنا کیا تھا اور اسے سنگسار کیا جا رہا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ نے فلانی کے رجم کا حکم فرمایا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”کیا آپ کو رسول اللہ ﷺ کا فرمان یاد نہیں ہے جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”تین افراد سے قلم کو اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے سے جب تک بیدار نہ ہو، بچے سے جب تک بالغ نہ ہو، دیوانے سے جب تک تندرست نہ ہو جائے۔““ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ تو پھر انہوں نے اس عورت کا راستہ چھوڑ دیا۔