کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نفل روزہ رکھنے والا زوال سے قبل دن کے وقت نیت کر کے روزے میں داخل ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 7913
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ، هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن مجھے رسول اللہ ﷺ نے کہا: ”اے عائشہ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کچھ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
حدیث نمبر: 7914
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ طَعَامًا، فَجَاءَ يَوْمًا، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ؟ " فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ " لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَيَقُولُ: " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ "، فَأَقُولُ: لَا، قَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (نبی کریم ﷺ) کھانا پسند کیا کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ آئے تو فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ تو میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ہمارے پاس آتے اور کہتے: ”کیا تمہارے پاس صبح کا کھانا ہے؟“ اگر میں کہتی نہیں، تو آپ ﷺ فرماتے: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ہمارے پاس آتے اور کہتے: ”کیا تمہارے پاس صبح کا کھانا ہے؟“ اگر میں کہتی نہیں، تو آپ ﷺ فرماتے: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
حدیث نمبر: 7915
وَرَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " قُلْنَا: لَا، قَالَ " فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ " وَبِذَلِكَ اللَّفْظِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى " فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن یحییٰ رحمہ اللہ نے ایک حدیث بیان کی کہ ایک دن میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
یعلی بن عبید، طلحہ سے یوں ہی نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب میں روزے سے ہوں۔“
یعلی بن عبید، طلحہ سے یوں ہی نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب میں روزے سے ہوں۔“
حدیث نمبر: 7916
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِذًا أَصُومُ " وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب میں روزے سے ہوں۔“
حدیث نمبر: 7917
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَأْتِي أَهْلَهُ مِنَ الضُّحَى فَيَقُولُ: " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ؟ " فَإِنْ قَالُوا: لَا، صَامَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَقَالَ: " إِنِّي صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ چاشت کے وقت اپنے اہل کے پاس آتے اور پوچھتے: ”کیا تمہارے پاس صبح کا کھانا ہے؟“ اگر وہ کہتے: ”نہیں“ تو وہ کہتے: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
حدیث نمبر: 7918
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنَ نَجِيحٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَطُوفُ بِالسُّوقِ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَقُولُ: " أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " فَإِنْ قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَأَنَا صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بازار میں گھوم رہے تھے، پھر وہ اپنے اہل کے پاس آئے اور کہا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اگر وہ کہتے: نہیں، تو وہ کہتے: پھر میں روزے سے ہوں۔
حدیث نمبر: 7919
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَجِيءُ بَعْدَمَا يُصْبِحُ، فَيَقُولُ: " أَعِنْدَكُمْ غَدَاءٌ؟ فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ، قَالَ: " فَأَنَا إِذًا صَائِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
اُم درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ صبح کے بعد آتے اور کہتے: کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ اگر نہ پاتے تو کہتے: میں روزے سے ہوں۔