کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں ہو“
حدیث نمبر: 7774
بَابُ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى " وَقَوْلَهُ حِينَ سُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ: " جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " إِنَّمَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ أَحْوَالِ النَّاسِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الشِّدَّةِ وَالْفَاقَةِ وَالِاكْتِفَاءِ بِأَقَلِّ الْكِفَايَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
اس دلیل کا باب کہ آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا (مالداری) کی حالت میں ہو۔“ اور جب آپ ﷺ سے افضل ترین صدقے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”تنگدست کا اپنی محنت کی کمائی سے کچھ دینا۔“ (ان دونوں احادیث میں) یہ اختلاف دراصل تنگی اور فاقہ کشی پر صبر کرنے اور کم سے کم ضرورت پر اکتفا کرنے کے حوالے سے لوگوں کے احوال کے مختلف ہونے کی بنا پر ہے، اور اللہ کی توفیق ہی سے سب کچھ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7774
حدیث نمبر: 7774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ " فَقُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ " فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دن آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں اور وہ دن مجھے ایسا موافق آیا کہ میرے پاس مال تھا تو میں نے کہا: آج میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا، اگر میں کسی دن میں سبقت لے جا سکتا ہوں۔ سو میں اپنا آدھا مال لے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل کے لیے باقی کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: جو دیا اتنا ہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سارا مال لے آئے، جو ان کے پاس تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول ﷺ کو چھوڑا ہے۔ تب میں نے کہا: میں کسی چیز میں تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7774
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
حدیث نمبر: 7775
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَائِدَ كَعْبٍ حِينَ عَمِيَ مِنْ بَنِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِيهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى الرَّسُولِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ "، فَقُلْتُ: فَإِنِّي أَمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، جب وہ رسول اللہ ﷺ سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی اور اسی میں ہے کہ میں نے کہا: میری توبہ میں سے ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے جدا ہو جاؤں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ، وہ تیرے لیے بہتر ہو گا۔“ تو میں نے کہا: صرف اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے رکھتا ہوں۔۔۔ آگے حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7775
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ جَدَّهُ حدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ فِي تَخَلُّفِهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيمَا كَانَ سَلَفَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي أُمُورٍ وَجَدَ عَلَيْهِ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَعَمَ ⦗٣٠٤⦘ حُسَيْنٌ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ قَالَ حِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَهْجُرُ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ، وَأَنْتَقِلُ وَأُسَاكِنُكَ وَأَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَعَمَ حُسَيْنٌ: " يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ " وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا تَابَ اللهُ عَلَى أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ أَبُو لُبَابَةَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: فَقَالَ: " يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ ".
حافظ ثناء اللہ
حسین بن سائب بن ابی لبابہ رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی، جو رسول اللہ ﷺ سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے کی وجہ سے تھی جسے رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا تھا، حسین کا خیال ہے کہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کا وہ گھر چھوڑتا ہوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں وہاں سے منتقل ہو جاتا ہوں اور آپ ﷺ کے حوالے کرتا ہوں اور اپنے مال سے بھی جدا ہوتا ہوں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے صدقہ کرتے ہوئے“، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تجھ سے «الثُّلُثُ» ”ثلث“ ہی کافی ہے“ (یہ حسین کا گمان ہے)۔
محمد بن ابی حفصہ نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ کی سند سے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ کو قبول کیا تو ابولبابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور تمام بات بیان کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ سے «الثُّلُثُ» ”ثلث“ ہی کافی ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7776
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد»
حدیث نمبر: 7777
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي، أَوْ قَالَ: الْمَعَادِنُ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، خُذْهَا مَنِّي صَدَقَةً، وَاللهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرُهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " هَاتِهَا "، فَحَذَفَهُ حَذْفَةً لَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ عَقَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَأْتِي بِمَالِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، خُذِ الَّذِي لَكَ، لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ "، فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ فَذَهَبَ، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا کسی غزوہ یا کان سے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دائیں جانب سے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے وصول کر لیں یا مجھ سے اس کی زکوٰۃ وصول کر لیں۔ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ میرے پاس کوئی مال نہیں، تو آپ ﷺ نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ آپ ﷺ کے بائیں جانب سے آیا اور ویسے ہی کہا، پھر وہ آپ ﷺ کے سامنے سے آیا اور ایسے ہی کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لاؤ“ اور اسے پھینک دیا، اگر اسے لگ جاتا تو وہ اسے زخمی کر دیتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک مال لاتا ہے صدقہ کرنے کے لیے اور بعد میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بیٹھ جاتا ہے۔ بیشک صدقہ وہ ہوتا ہے جو مال داری کے بعد ہو، اس کو پکڑ یہ تیرا ہے، ہمیں کوئی اس کی حاجت نہیں۔“ تو اس نے اپنا مال پکڑا اور چلا گیا۔
(حماد بن سلمہ، محمد بن اسحاق سے اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ یہ میں نے کان سے لیا ہے)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7777
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
حدیث نمبر: 7778
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَعَاهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَذَكَرَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: " تَصَدَّقُوا "، فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ: " تَصَدَّقُوا " فَأَلْقَى هُوَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ قَالَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَدَعَوْتُهُ فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ فَتَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَتَكْسُونَهُ، فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَتَصَدَّقْتُ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ " وَانْتَهَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تھے، آپ ﷺ نے اسے بلایا اور حکم دیا کہ وہ دو رکعت ادا کرے، پھر وہ دوسرے جمعہ کو داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے۔ آپ ﷺ نے اسے بلایا اور اسے دو رکعت ادا کرنے کو کہا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو داخل ہوا اور وہی بات بیان کی اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کرو، صدقہ کرو“، تو آپ ﷺ نے اسے دو کپڑے دیے، اس میں سے جو انہوں نے صدقہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کرو“، تو اس نے اپنا ایک کپڑا پھینک دیا تو آپ ﷺ نے اسے منع کیا جو عمل اس نے کیا۔ آپ ﷺ نے اسے ناپسند کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دیکھو کہ یہ مسجد میں اجڑی حالت سے داخل ہوا تو میں نے اسے بلایا اور میں نے امید کی کہ تم اسے کچھ دو گے اور صدقہ کرو گے اور تم اسے پہناؤ گے مگر تم نے ایسا نہ کیا۔ تب میں نے کہا: صدقہ کرو، صدقہ کرو، تو میں نے اسے دو کپڑے دیے اس میں سے جو تم نے صدقہ کیا۔ پھر میں نے کہا: صدقہ کرو تو اس نے اپنا ایک کپڑا پھینک دیا ہے۔ اپنا کپڑا پکڑ“، اور اسے آپ ﷺ نے ڈانٹا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7778
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه احمد»
حدیث نمبر: 7779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ: " رَجُلٌ كَانَ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عَرْضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ " يَعْنِي فَتَصَدَّقَ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایک درہم ایک لاکھ درہم سے کیسے سبقت لے گیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس صرف دو درہم تھے، اس نے ان میں سے ایک درہم کا صدقہ کر دیا، جبکہ دوسرا وہ شخص تھا جس کے پاس بہت زیادہ مال تھا، اس نے اپنے کثیر مال میں سے ایک لاکھ درہم لیے اور انہیں صدقہ کر دیا (تو پہلا شخص سبقت لے گیا)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7779
درجۂ حدیث محدثین: منكر الاسنا د
تخریج حدیث «منكر الاسنا د۔ اخرجه النسائي»
حدیث نمبر: 7780
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: لِي مِائَةُ أُوقِيَّةٍ فَتَصَدَّقْتُ بِعَشَرَةِ أَوَاقٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الثَّالِثُ: لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ بِدِينَارٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِعُشْرِ مَالِهِ، كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس سو اوقیہ ہیں، میں نے دس اوقیہ کا صدقہ کر دیا، دوسرے نے کہا: میرے پاس سو دینار ہیں، میں نے دس دینار صدقہ کر دیے اور تیسرے نے کہا: میرے پاس دس دینار ہیں، میں نے ایک دینار کا صدقہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کے دسویں حصے کا صدقہ کیا ہے اور تم سب اجر میں برابر ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7780
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه احمد»