حدیث نمبر: 7670
أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا، کھجور یا جو میں سے، ہر آزاد، غلام، بڑے اور چھوٹے پر۔“
حدیث نمبر: 7671
وَأَمَّا الَّذِي رُوِيَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فِي ذَلِكَ: فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ، فَقَالَ: " أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لَا يَدُلُّ عَلَى سُقُوطِ فَرْضِهَا؛ لِأَنَّ نُزُولَ فَرْضٍ لَا يُوجِبُ سُقُوطَ آخَرَ وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى وُجُوبِ زَكَاةِ الْفِطْرِ وَإِنِ اخْتَلَفُوا فِي تَسْمِيَتِهَا فَرْضًا فَلَا يَجُوزُ تَرْكُهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقہ فطر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے حکم دیا، جب زکاۃ کی فرضیت نازل ہوئی تو پھر نہ آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا اور نہ ہی منع کیا لیکن ہم دیا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ فرض کے ساقط ہونے پر دال نہیں، کیونکہ فرض دوسرے ساقط کو واجب نہیں کرتا اور اہل علم نے صدقہ فطر کے وجوب پر اجماع کیا ہے، اگرچہ اس کے نام میں اختلاف کیا ہے مگر اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ فرض کے ساقط ہونے پر دال نہیں، کیونکہ فرض دوسرے ساقط کو واجب نہیں کرتا اور اہل علم نے صدقہ فطر کے وجوب پر اجماع کیا ہے، اگرچہ اس کے نام میں اختلاف کیا ہے مگر اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔