کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا جب زکوٰۃ وصول کرے تو اس شخص کے لیے کیا دعا کہے جس سے اس نے زکوٰۃ لی ہے؟
قَالَ اللهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ} [التوبة: 103] قَالَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالصَّلَاةُ عَلَيْهِمُ الدُّعَاءُ لَهُمْ عِنْدَ أَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنْهُمْ..
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ﴾ ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک صاف کر دیں اور ان کے حق میں دعا کیجیے، بے شک آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے۔“ [سورة التوبة: 103]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان پر صلاۃ بھیجنے سے مراد، ان سے صدقہ وصول کرتے وقت ان کے لیے دعا کرنا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور ان پر صلاۃ بھیجنے سے مراد، ان سے صدقہ وصول کرتے وقت ان کے لیے دعا کرنا ہے۔
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ بِالطَّابِرَانِ أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ ". وَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عُمَرَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ ⦗٢٦٥⦘ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، قَالَ: " اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ". ثُمَّ ذَكَرَ مَا بَعْدَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عُمَرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَجَمَاعَةٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس قوم اپنے صدقات لے کر آتی تو آپ ﷺ فرماتے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ» ”اے اللہ! فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما۔“ اور میرے والد بھی صدقہ لے کر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! آلِ ابو اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔“
ولید، عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس قوم اپنے صدقات لے کر آتی تو آپ ﷺ فرماتے: ”اے اللہ! فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما“، پھر بقیہ حدیث کا تذکرہ کیا۔
ولید، عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کے پاس قوم اپنے صدقات لے کر آتی تو آپ ﷺ فرماتے: ”اے اللہ! فلاں کی آل پر رحمت نازل فرما“، پھر بقیہ حدیث کا تذکرہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَهُ مُصَدِّقُ اللهِ وَمُصَدِّقُ رَسُولِهِ، فَبَعَثَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ اللهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَلَا فِي إِبِلِهِ ". فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلَغَ فُلَانًا مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا اللهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک آدمی کی طرف (زکوۃ وصول کرنے والا) بھیجا تو اس نے اونٹنی کا ایک لاغر بچہ بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس اللہ اور اس کے رسول کا مصدق آیا اور اس نے اونٹنی کا لاغر بچہ بھیج دیا، «اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَلَا فِي إِبِلِهِ» ”اے اللہ! تو اس میں برکت نہ دینا اور نہ ہی اس کے اونٹوں میں۔“” تو یہ بات اس آدمی تک پہنچی تو اس نے ایک حسین و جمیل اونٹنی بھیجی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں کو یہ بات پہنچی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، پھر اس نے اپنی حسین اونٹنی بھیج دی، «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ» ”اے اللہ! تو اس میں برکت دے اس میں اور اس کے اونٹوں میں۔“”