السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما يقول: المصدق إذا أخذ الصدقة لمن أخذها منه باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا جب زکوٰۃ وصول کرے تو اس شخص کے لیے کیا دعا کہے جس سے اس نے زکوٰۃ لی ہے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَهُ مُصَدِّقُ اللهِ وَمُصَدِّقُ رَسُولِهِ، فَبَعَثَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ اللهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَلَا فِي إِبِلِهِ ". فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلَغَ فُلَانًا مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا اللهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ ".سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہیں آپ ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا تو اس نے اونٹنی کا بچہ بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پاس اللہ اور اس کے رسول کا مصدق آیا اور اس نے اونٹنی کا بچہ بھیج دیا، «اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَلَا فِي إِبِلِهِ» ”اے اللہ! تو اس میں برکت نہ دینا اور نہ ہی اس کے اونٹوں میں۔“” تو یہ بات اس آدمی تک پہنچی تو اس نے ایک حسین و جمیل اونٹنی بھیجی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں کو یہ بات پہنچی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، پھر اس نے اپنی حسین اونٹنی بھیج دی، «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ» ”اے اللہ! تو اس میں برکت دے اس میں اور اس کے اونٹوں میں۔“”